Hand gun stock photo
ایک ترک پولیس افسر نے اپنی بیوی اور 3 سالہ بیٹے کو قتل کر کے خودکشی کر لی
ترکیہ کے جنوب مشرقی شہر ماردین گذشتہ روز ایک پولیس افسر نے اپنی بیوی اور تین سالہ بیٹے کو قتل کرکے خود کشی کرلی۔
ترک میڈیا ویب سائٹس کی طرف سے رپورٹ کی گئی تفصیلات کے مطابق ترک پولیس افسر جو ماردین میں پولیس ہیڈکوارٹر میں علاقائی پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا ہے نے اپنی 31 سالہ بیوی اور اپنے تین سالہ بیٹے کوگولی مار دی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ ان کی زندگی بچانے کی کوشش کی گئی مگروہ جاں بر نہ ہوسکے۔
نیوز ویب سائٹس نے بتایا کہ اس کے جرم کے بعد پولیس افسر نے بندوق کی گولی سے خودکشی کرنے سے قبل گھر کے دروازے کو اندر سے بندکردیا تھا۔
پڑوسی گھر میں داخل نہیں ہو سکے جہاں اہلکار اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہ رہا تھا۔ بعد میں پولیس گھر کے دروازے توڑ کراندر داخل ہوئی جہاں اسے تین لاشیں ملیں۔
ترک میڈیا کی رپورٹ کے مطابق تینوں افراد، باپ، ماں اور بچہ گولی لگنے کے فوراً بعد اپنے گھر میں ہی دم توڑ گئے۔
طبی ٹیموں کی جانب سے ضروری معائنے کے بعد لاشوں کو "ماردین ٹریننگ اینڈ ریسرچ ہسپتال" کے مردہ خانے بھیج دیا گیا۔ قتل کی اس گھناؤنی واردات کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس واقعے سے ترکی میں اپنے مردوں کے ہاتھوں خواتین کے قتل کی بڑھتی وارداتوں کا معاملہ ایک بار پھرمنظرعام پر آیا ہے۔
ترکیہ میں خواتین کے حقوق کا دفاع کرنے والی سرکردہ انجمن نے اس قتل کی مذمت کی جس میں قاتل کی خودکشی سے قبل ایک خاتون اور ایک بچے کی جانیں گئیں۔
"سٹاپ دی کلنگ آف ویمن" پلیٹ فارم جو کہ 2010 سے ملک میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد سے نمٹنے کے لیے کام کر رہا ہے نے حکام سےملک میں خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ پلیٹ فارم جو حکام پر مسلسل تنقید کرتا ہے۔ خواتین کے قاتلوں کےخلاف ان کی " نرمی" پر انہیں تنقید کا نشانہ بناتا۔ اس کا کہنا ہے کہ 2023ء میں مردوں کے ہاتھوں ترکیہ میں کم از کم 403 خواتین کے قتل کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔