فرانس انتخابات کا منظر، ایک شخص اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے
فرانسیسی انتخاب میں انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کی جیت کا امکان
فرانس میں قبل از وقت ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ کا آغاز ہو گیا۔ انتخابات سے متعلق خیال ظاہر کیا جا رہا ہے ان میں دوسری عالمی جنگ کے بعد فرانس میں پہلی مرتبہ ایک انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت اقتدار میں آ سکتی ہے۔
ان انتخابات کا اعلان فرانس کے موجودہ صدر عمانویل میکرون نے یورپی پارلیمان کے حالیہ الیکشن میں مارین لے پین کی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کے ہاتھوں شکست کے بعد کیا تھا۔
یورپ کے معیاری وقت کے مطابق اتوار کو صبح چھ بجے فرانس میں ووٹنگ کا آغاز ہوا۔ چھوٹے شہروں میں یہ عمل شام چار بجے جب کہ بڑے شہروں چھ بجے اختتام پذیر ہو گا۔ ان انتخابات کا دوسرا اور فیصلہ کن مرحلہ ایک ہفتے بعد ہو گا۔ اس سے قبل یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ فرانس کی 577 نشستوں پر مشتمل قومی اسمبلی میں کون سی سیاسی جماعت کتنی سیٹیں لے پائی گی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
تاہم ایک حالیہ انٹرویو کے دوران مارین لے پین اپنی پارٹی کی جیت کے حوالے سے پر اعتماد نظر آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کو فیصلہ کن اکثریت حاصل ہوگی اور ان کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیے گئے 28 سالہ جارڈن بارڈیلا ہی اس اہم منصب پر فائز ہوں گے۔
مارین لے پین کی پارٹی مہاجرت میں کمی کی حامی رہی ہے۔ اس پارٹی کو فیصلہ کن اکثریت ملنے کی صورت میں فرانس میں سفارت کاری کے حوالے سے ایک ہنگامہ خیز دور کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ماکروں پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کے وہ 2027ء میں اپنی صدارت کی مدت ختم ہونے تک فرانس کے صدر رہیں گے اور جارڈن بارڈیلا کے وزیر اعظم بننے کی صورت میں ان دونوں میں بین الاقوامی سطح پر فرانس کا موقف پیش کرنے کے حوالے سے اختلافات ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
جارڈن بارڈیلا پہلے ہی کہہ چکے ہیں کے وہ میکرون کو عالمی مسائل پر ان کے موقف کے حوالے سے چیلنج کریں گے۔
اب تک فرانس میں الیکشن کے نتائج کا اندازہ لگانے کے لیے جو سروے کیے گئے ہیں ان میں نیشنل ریلی اس دوڑ میں سب سے آگے نظر آتی ہے جب کہ وہ سیاسی اتحاد جس میں ماکروں کی جماعت شامل ہے تیسر نمبر پر ہے۔ تاہم پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ونسینٹ مارٹنی کا کہنا ہے کہ اس رائے شماری کی بنیاد پر الیکشن کے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔