دو جولائی 2024 کو آسٹریلیا کے کیمپر ڈاون میں سڈنی یونیورسٹی میں ایک 14 سالہ لڑکے کو گرفتار کرنے اور ایک 22 سالہ شخص کو چاقو مارنے کے واقعے کے بعد ہسپتال لے جانے کے بعد پولیس افسران جائے وقوعہ پر کام کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)
آسٹریلین پولیس نے نوعمر لڑکے کو چاقو گھونپنے پر یونیورسٹی سے گرفتار کر لیا
آسٹریلیا کی پولیس نے منگل کے روز ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس نے صبح سویرے 14 سالہ لڑکے کو گرفتار کیا ہے۔ جس پر الزام ہے کہ اس نے یونیورسٹی آف سڈنی میں چاقو گھونپنے کی واردات کی۔
واقعہ کے بعد پولیس نے یونیورسٹی عمارت کے اردگرد لاک ڈاؤن کر دیا۔ پولیس کے ایمرجنسی سے متعلق عملہ نے ایک 22 سالہ نوجوان کا ہسپتال میں علاج شروع کرا دیا ہے۔ جس کی حالت ہسپتال میں مستحکم بتائی جاتی ہے۔ مبینہ طور پر اسے چاقو سے زخمی کیا گیا۔ یہ بات نیو ساؤتھ ویلز سٹیٹ نے ایک جاری کردہ بیان میں بتائی ہے۔
پولیس کے مطابق چاقو سے حملہ کرنے والا بچہ اس واقعہ کے بعد بس میں سوار ہو گیا۔ تاہم ہسپتال کے قریب پہنچ کر اسے گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں کے لیے فوری کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور اور مضروب ایک دوسرے کو جانتے نہیں تھے۔
یونیورسٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں پولیس یونیورسٹی میں ہی موجود رہے گی۔
پولیس نے مزید تحقیقات کے لیے جائے وقوعہ کو محفوظ کر لیا ہے۔ فوری طور پر پولیس نے واقعہ کے سبب یا وجوہات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔ جبکہ تحقیقات ابھی شروع ہو رہی ہیں۔
واضح رہے آسٹریلیا میں 18 سال سے کم عمر بچوں کو چاقو کی فروخت ممنوع ہے۔ الا یہ کہ وہ اس کا کوئی معقول جواز پیش کریں۔