چیشائر کانسٹیبلری کی جاری کردہ یہ نامعلوم ہینڈ آؤٹ تصویر نرس لوسی لیٹبی کی ہے۔ نرس کو برطانیہ کے ایک ہسپتال میں سات نوزائیدہ بچوں کو قتل اور دیگر چھے کو قتل کرنے کی کوشش کی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ لوسی لیٹبی پر پانچ لڑکوں اور دو لڑکیوں کے قتل اور پانچ لڑکوں اور پانچ لڑکیوں کے قتل کی کوشش کا الزام تھا جب وہ 2015 اور 2016 کے درمیان شمال مغربی انگلینڈ کے کاؤنٹیس آف چیسٹر ہسپتال میں ملازم تھی۔ (چیشائر کانسٹیبلری بذریعہ اے پی)

برطانیہ کی نرس لیٹبی کو ایک اور بچے کو مارنے کی کوشش کی مجرم قرار دے دیا گیا

نرس نے کئی بچوں کو قتل کیا، تاحیات جیل کی سزا سنائی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پولیس نے منگل کے روز کہا کہ سابقہ نرس لوسی لیٹبی کو دوبارہ مقدمے کی سماعت کے بعد ایک اور نوزائیدہ بچے کو قتل کرنے کی کوشش کی مجرم قرار دے دیا گیا۔ اس سے گذشتہ سال کی سزاؤں میں اضافے کے ساتھ وہ برطانیہ میں جدید دور میں بچوں کی سب سے بڑی سلسلہ وار قاتل بن گئی۔

34 سالہ لیٹبی کو گذشتہ اگست میں سات بچوں کو قتل کرنے اور جون 2015 اور جون 2016 کے درمیان چھ مزید کو مارنے کی کوشش کے لیے قصوروار پایا گیا تھا جب وہ شمالی انگلینڈ کے چیسٹر میں کاؤنٹیس آف چیسٹر ہسپتال کے نوزائیدہ یونٹ میں بطور نرس کام کر رہی تھی۔

اسے تاحیات سزا کے لیے جیل بھیج دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ وہ کبھی بھی رہا نہیں ہو گی۔

گذشتہ مہینے نرس پر ایک اور کمسن بچی جسے چائلڈ کے کا نام دیا گیا، کے قتل کی کوشش کے سلسلے میں دوسری بار مقدمہ چلایا گیا۔ اس مقدمے میں اصل جیوری کسی فیصلے تک پہنچنے میں ناکام رہی تھی۔

چیشائر پولیس نے ایکس پر ایک بیان میں کہا، "لوسی لیٹبی کو مانچسٹر کراؤن کورٹ میں دوبارہ مقدمے کی سماعت کے بعد ایک بچے کو قتل کرنے کی کوشش کے اضافی جرم کی مجرم پایا گیا۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں