امریکی صدر جو بائیڈن: رائیٹرز

امریکہ: بائیڈن کی سبک دوشی کے لیے 25 ویں ترمیم استعمال کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن نے گذشتہ ماہ کے اواخر میں اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابل صدارتی مباحثے میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد صدارتی دوڑ سے بائیڈن کی دست برداری کے مطالبے میں اضافہ ہونے لگا اور اب امریکی آئین کی 25 ویں ترمیم کو استعمال کیے جانے اور صدر بائیڈن کی سبک دوشی کے لیے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ نومبر میں مقررہ آئندہ صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے لیے خاتون نائب صدر کمالا ہیرس یا کسی اور ڈیموکریٹ امیدوار کو موقع دیا جائے۔

صدر جو بائیڈن تمام مطالبات یکسر مسترد کرتے ہوئے صدارتی انتخابات میں اپنی نامزدگی باقی رکھنے پر مصر ہیں۔ اس کے نتیجے میں آئین کی 25 ویں ترمیم کے استعمال کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ اس ترمیم کے تحت اگر وزراء کی اکثریت نے یہ فیصلہ دے دیا کہ صدر اپنا کام جاری رکھنے پر قادر نہیں ہیں تو بائیڈن کو مجبورا سبک دوش ہونا پڑے گا۔ آئین میں لکھا ہے کہ کسی جسمانی یا ذہنی بیماری کے باعث صدر اپنی ذمے داریاں نہ نبھا پا رہے ہوں تو نائب صدر قائم مقام صدر بن سکتے ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

امریکی ایوان نمائندگان کے ریپبلکن اسپیکر مائیک جونسن نے آئین کی 25 ویں ترمیم کو فعال کرنے پر زور دیا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے دو قانون ساز ارکان نے صدارتی مباحثے کے ایک روز بعد ہی 25 ویں ترمیم فعال کرنے کی قرار داد پیش کر دی تھی۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ 25 ویں ترمیم استعمال کرنے کا مطالبہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوئے۔ ان کے نزدیک بائیڈن کا ڈیموکریٹ امیدوار رہنا بہتر ہے تا کہ وہ انتخابات میں آسانی سے انہیں شکست دے سکیں بلکہ ٹرمپ نے تو صدر بائیڈن کو نصیحت کی ہے کہ وہ صدارتی دوڑ سے دست برداری کے مطالبات پر کان نہ دھریں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

امریکی آئین کے تحت ملک کا نائب صدر اور انتظامیہ کے 15 وزراء ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے اسپیکروں کو یاد داشت پیش کر کے صدر کو حکومت سے ہٹانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں البتہ صدر اس کے خلاف ویٹو استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد قانون سازوں کو چار روز کے اندر جواب دینا لازم ہے اور کانگریس کو 48 گھنٹوں کے دوران اس کا فیصلہ کرنا ہو گا۔ اس فیصلے کے نافذ العمل ہونے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی، جس کی توقع نہیں ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں