بین گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حکومت مخالف مظاہرین اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی امریکہ روانگی کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں (21 جولائی - رائٹرز)
یاہو اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کو جلد سمجھوتے کا ’’اطمینان‘‘ دلا کر واشنگٹن روانہ
اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے گذشتہ ہفتے عندیہ دیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے پاس موجود قیدیوں کی واپسی کا سمجھوتا ہماری پہنچ میں ہے۔ انھوں نے زور دیا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ سمجھوتا طے پا جائے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی میں نو ماہ سے زیادہ عرصے سے قید افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انھیں اطمینان دلایا۔ نیتن یاہ نے مذکورہ گھرانوں کو یقین دلایا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے، یہ مرحلہ وار ہو گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے یرغمال افراد کے خاندانوں کو آگاہ کیا کہ فوجی کارروائیوں کے دباؤ کی مدد سے تبادلے کے سمجھوتے کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے۔
اسرائیلی رپورٹوں کے مطابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ یہ سمجھتے ہیں کہ حماس تنظیم تبادلے کے سمجھوتے میں دل چسپی لے رہی ہے۔ مذاکرات کی میز پر موجود سمجھوتا مثالی نہیں ہے تاہم مفاہمت کے لیے راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق گیلنٹ نے باور کرایا ہے کہ حماس کے ساتھ سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے حالات سازگار ہو چکے ہیں۔ انھوں نے وزیر اعظم نیتن یاہو پر اس حوالے سے پیش رفت میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا۔ گیلنٹ کے مطابق نیتن یاہو کا مقصد حکومتی اتحاد میں شامل دائیں بازو کے شدت پسند عناصر کی سپورٹ برقرار رکھنا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو واشنگٹن پہنچ گئے ہیں۔ وہ بدھ کے روز کانگریس کے سامنے تقریر کریں گے۔ رواں ہفتے وہ امریکا کی نائب صدر کملا ہیرس سے بھی ملاقات کریں گے۔ جمعرات کے روز نیتن یاہو اور امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان بات چیت ہو گی۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا سمجھوتا ایک عرصے سے معلق ہے۔ ادھر وزیر اعظم نیتن یاہو پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ جلد از جلد اس سمجھوتے کی منظوری دیں۔
بات چیت کے حوالے سے با خبر ذرائع نے انکشاف کیا کہ فریقین کے درمیان مذاکرات کو 4 مرکزی رکاوٹیں درپیش ہیں جو جنگ بندی تک پہنچنے کی راہ میں حائل ہیں۔
ان میں پہلی رکاوٹ مغوی قیدیوں کا معاملہ ہے۔ دوسرا معاملہ اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ مطالبہ ہے کہ مسلح عناصر غزہ کی پٹی کے شمال میں واپس نہیں آئیں گے۔ تیسرا معاملہ نیتن یاہو کی یہ خواہش کہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح کی راہ داری کے قریب باقی رہیں گی۔ چوتھا اور آخری معاملہ یہ کہ نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ غیر معینہ مدت کے لیے فائر بندی کی پابندی کرنا اسرائیل پر لازم نہیں ہو گا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
حماس کی جانب سے اس شرط کو ختم کرنے کے بعد کہ پہلے غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور تمام فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنایا جائے، جنگ بندی کی بات چیت نے زور پکڑ لیا تھا۔ تاہم گذشتہ ہفتے کے اختتام سے یہ سست روی کا شکار ہو گئی جب اسرائیل نے حماس کے عسکری ونگ کے مرکزی قائد محمد الضیف کو ہلاک کرنے کے لیے غزہ کے وسطی علاقے میں بم باری کر ڈالی۔