23 جولائی 2024 کو واشنگٹن میں امریکی کانگریس سے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خطاب سے ایک دن قبل فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہرین کینن آفس بلڈنگ کے اندر جمع ہیں۔ (رائٹرز)

غزہ جنگ کے خلاف امریکی کانگریس کی عمارت میں احتجاج کرنے والے یہودی کارکنان گرفتار

جیوش وائس فار پیس نامی کارکن گروپ کے زیرِ اہتمام مظاہرہ، 250 گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کیپیٹل پولیس نے منگل کے روز اسرائیل کے لیے امریکی فوجی حمایت کے خلاف احتجاج کرنے والے یہودی کارکنان کو کانگریس کی عمارت کے اندر سے گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاریاں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے امریکی کانگریس سے خطاب سے ایک روز قبل عمل میں آئیں۔

جیوش وائس فار پیس نامی کارکن گروپ کے زیرِ اہتمام مظاہرین نے سرخ رنگ کی ٹی شرٹس پہنی ہوئی تھیں جن پر نعرے لکھے تھے: "ہمارے نام پر نہیں" اور "یہودی کہتے ہیں اسرائیل کو مسلح کرنا بند کرو"۔ کچھ لوگوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: "جنگ بندی ابھی" اور "غزہ کو زندہ رہنے دو"۔

احتجاج کرنے والوں نے نیتن یاہو کے دورے کے موقع پر مظاہروں کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ دورے کے دوران وہ صدر جو بائیڈن، نائب صدر کملا ہیرس اور ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

جیوش وائس فار پیس نے سوشل میڈیا پر لکھا، "گذشتہ 9 مہینوں سے ہم نے غزہ میں لاتعداد مرتبہ خوف و دہشت کا مشاہدہ کیا جو ہمارے نام پر کی گئی اور ہماری حکومت نے اس کی مالی اعانت کی۔"

کارکن گروپ نے کہا کہ 250 سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کیا گیا اور 400 افراد نے مظاہرے میں حصہ لیا۔

پولیس نے بتایا کہ تقریباً 200 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا، "ہم نے قانونی طور پر داخل ہونے والے لوگوں سے کہا کہ وہ رک جائیں ورنہ انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ وہ نہیں رکے۔"

کانگریس کی عمارات کے اندر مظاہرہ کرنا خلافِ قانون ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں