پیرس اولمپکس سے
’پیرس میں " دی لاسٹ سپر " کا مذاق اڑانے سے مسیحی برادری صدمے سے دوچار‘
متنازعہ پروگرام پیش کرنے پر امریکہ اور یورپ میں سخت ناراضی کی لہر دوڑ گئی۔
امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے پیرس میں اولمپکس کی افتتاحی تقریب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئےکہا ہے کہ "گذشتہ رات ’ٓاخری عشائیے‘کا مذاق اڑانا دنیا بھر کے عیسائیوں کے لیے چونکا دینے والا اور توہین آمیز اقدام تھا۔ اس نے پیرس میں اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے دوران اس میگا ایونٹ کو متازعہ بنا دیا۔
جانس نے’ایکس‘ پلیٹ فارم پر مزید کہاکہ "عقیدے اور مستند اقدار کے خلاف جنگ سرحدوں کو عبور کر چکی ہے، لیکن ہمیں یقین ہے کہ سچائی اور نیکی غالب آئے گی"۔
جانسن نے"جان کی انجیل" کے ایک جملے کے ساتھ پوسٹ کا اختتام کیا، جس کا مطلب ہے: "روشنی اندھیرے میں چمکتی ہے۔ اندھیرا روشنی کو نہیں بجھا سکتا"۔ وہ مسیحیوں کی عظیم اقدار کی فتح کا حوالہ دے رہےتھے۔
مائیک جانسن
سنہ2024ء کے پیرس اولمپکس کے افتتاحی موقع پر ڈاونچی کی پینٹنگ "دی لاسٹ سپر" کی ٹرانسجینڈر فنکاروں کی تقلید نے کیتھولک چرچ میں بڑے پیمانے پر عدم اطمینان کو جنم دیا ہے اور مذہبی عقائد کی خوفناک توہین کے طور پر اولمپکس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹرانس جینڈر فنکاروں کا ایک گروپ ایک طویل ویڈیو پریزنٹیشن میں نمودار ہوا جس میں پندرہویں صدی کے وسط میں لیونارڈو ڈا ونچی کی پینٹنگ "دی لاسٹ سپر" میں کھینچے گئے کرداروں کی شکل دی گئی۔
اس منظر میں ایک ٹرانس جینڈر شخص کو یسوع مسیح کے کردار کو مجسم کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور وہ ناچ رہا تھا، اچھل کود رہا تھا اور جنسی اشارے کر رہا تھا جس کا کیتھولک چرچ کے مطابق مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یورپی پارلیمنٹ کے رکن ماریو ماریچل نے اس واقعے پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دُنیا کے تمام مسیحیوں کے لیے پیغام ہے۔"دنیا کے تمام مسیحی جو پیرس 2024ء کو دیکھ رہے ہیں۔آخری عشائیہ کی اس پیروڈی سے تقریب اور اپنی توہین محسوس کریں، جان لیں کہ فرانس ایک جیسا نہیں ہے‘‘۔
اس اسکینڈل نے یونان کےفالورز کو بھی ناراض کردیا جو قدیم زمانے سے اولمپکس کے تصور کو قائم کرنے کا اعزاز اپنے کھاتے میں ڈالتے ہیں"۔ انہوں نے اس اقدام کو یورپ کا زوال اور اولمپکس کی روح اور خیال کر مردہ قرار دینے کے مترادف قرار دیا۔