غزہ جنگ بندی پر حالیہ دوحہ مذاکرات سب سے زیادہ مثبت رہے: امریکی عہدیدار
امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے دوحہ میں ہونے والے حالیہ مذاکرات ایک معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے دونوں فریقوں کے درمیان مہینوں میں ہونے والے سب سے تعمیری مذاکرات تھے۔
عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید کہا کہ مذاکرات کاروں کا خیال ہے کہ معاہدہ آگے بڑھائے جانے کے لیے تیار ہے تاہم اب بھی کچھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام شرکا نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ معاملے کو ختم کرنے کے لیے ایک نئی روح موجود ہے۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن نے جمعے کے روز ایک تجویز پیش کی جو بات چیت میں دونوں جماعتوں کے درمیان موجود تمام خلا کو ختم کرتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی تصدیق کی ہے کہ معاہدے تک پہنچنا پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہوگیا ہے۔ بائیڈن نے اوول آفس میں ایک تقریب کے موقع پر کہا کہ ہم ابھی تک کسی معاہدے پر نہیں پہنچے ہیں لیکن اب تصفیہ تک پہنچنا تین دن پہلے کے مقابلے میں قریب تر ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں یہ بھی بتایا کہ امریکی صدر نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے الگ الگ بات چیت کی اور غزہ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اُدھر اسرائیل نے اس امید کا اظہار کیا کہ ثالثوں کا دباؤ حماس کو جنگ بندی کے مجوزہ معاہدے کو قبول کرنے پر مجبور کر دے گا۔
اسی تناظر میں امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ سیکریٹری خارجہ بلنکن جنگ بندی کے معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے لیے ہفتہ اسرائیل کا دورہ کریں گے۔
خلا کم کرنے والی امریکی تجویز
یہ پیش رفت امریکہ، مصر اور قطر کی جانب سے جمعہ کو غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے مشترکہ بیان جاری کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ مذاکرات تعمیری، سنجیدہ اور مثبت ماحول میں ہوئے۔ امریکہ نے قطر اور مصر کی حمایت سے ایک تجویز پیش کی جس سے دونوں فریقوں اسرائیل اور حماس کے درمیان خلیج کم ہو گی۔
ثالثوں کے مشترکہ بیان کے مطابق یہ تجویز گزشتہ ہفتے کے دوران حاصل ہونے والے معاہدے کے نکات پر بھی قائم ہے اور باقی خلا کو اس طریقے سے پُر کرتی ہے جس سے معاہدے کے تیزی سے نفاذ کی اجازت ملتی ہے۔ امریکہ، مصر اور قطر کے سینئر حکام اگلے ہفتے کے اختتام سے قبل قاہرہ میں دوبارہ ملاقات کریں گے اور امید ہے کہ پیش کی گئی شرائط کے مطابق کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔
حماس کا انکار
حماس نے مجوزہ تجویز پر تبصرہ کیا ہے۔ حماس کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ ہم دوحہ میں مجوزہ معاہدے میں اسرائیل کی طرف سے رکھی گئی نئی شرائط کو مسترد کرتے ہیں۔ قیادت کے ایک ذریعے نے بتایا کہ اسرائیلی وفد نے رکاوٹ ڈالنے کے اپنے نقطہ نظر کے تناظر میں نئی شرائط لگائی ہیں۔ جیسا کہ اس کی طرف سے غزہ کی پٹی کے مصر کے سرح کے ساتھ علاقے فلاڈیلفیا محور میں فوجی دستوں کو برقرار رکھنے پر اصرارکیا گیا ہے۔
حماس نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے درخواست کی ہے کہ اسے قیدیوں کے ناموں پر ویٹو کرنے اور دیگر قیدیوں کو فلسطین سے باہر ملک بدر کرنے کا حق دیا جائے۔ حماس عہدیدار نے کہا کہ فلسطینی تحریک غزہ سے مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے پٹی سے مکمل انخلا اور بے گھر لوگوں کی واپسی سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کرے گی۔
غلط مثبت ماحول
حماس کے ایک رہنما نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی انتظامیہ غلط مثبت ماحول پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے پاس جنگ روکنے کے لیے کوئی سنجیدگی نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد وقت خریدنا ہے۔