14 اگست 2024 کو ہندوستان کے کولکتہ میں آر جی کار میڈیکل کالج اور ہسپتال کے احاطے کے اندر میڈیکل کے طلباء ایک ٹرینی ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی اور قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شریک ہیں۔ (رائٹرز)

اعلیٰ ترین بھارتی عدالت کا کام کی جگہ کی حفاظت کے لیے ڈاکٹروں کی ٹاسک فورس کا قیام

2012 کے واقعے کے بعد سخت قوانین نافذ ہوئے لیکن خواتین پھر بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں ایک 31 سالہ ٹرینی ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا گیا ہے جس کے بعد ملک کی سپریم کورٹ نے منگل کے روز ڈاکٹروں کی ایک قومی ٹاسک فورس کے قیام کا حکم دیا ہے کہ وہ اپنے کام کی جگہ پر حفاظت کے بارے میں سفارشات پیش کرے۔

عدالت نے وفاقی پولیس سے کہا کہ وہ نو اگست کو مشرقی شہر کولکتہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں زیرِ تربیت ڈاکٹر کے قتل کی تحقیقات کے بارے میں جمعرات کو رپورٹ پیش کرے۔

ملک بھر میں ڈاکٹروں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور جرم کے بعد غیر ہنگامی مریضوں کو دیکھنے سے انکار کر دیا ہے جو کام کی ایک محفوظ جگہ اور جرم کے خلاف فوری تحقیقات کا مطالبہ کرنے کے لیے ان کی کارروائی کے حصہ ہے۔

ایک پولیس رضاکار کو گرفتار کر کے اس پر جرم کا الزام لگایا گیا ہے۔ خواتین کارکنان کہتی ہیں کہ واقعے نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ بھارت میں خواتین کس طرح جنسی تشدد کا شکار ہو رہی ہیں حالانکہ 2012 میں نئی دہلی میں چلتی بس میں 23 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور قتل کے بعد سخت قوانین نافذ کیے گئے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں