غزہ کا منظر

کیا غزہ میں جنگ بندی کا وقت آن پہنچا ہےیا جنگ مزید الجھنے والی ہے؟

غزہ میں جنگ بندی پوری دنیا کے لیے ایک حقیقی امتحان بن کر رہ گئی ہے۔ امریکہ کی انتہا پسند اسرائیلی حکومت کی حمایت نے خود امریکیوں کو ایک مخمصے میں ڈال دیا ہے: مصری دانشور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے اور اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے لیے ثالثی کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔

مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی یہ بات چیت اس ہفتے قاہرہ میں جاری ہے۔ گذشتہ ہفتے دوحہ میں ہونے والی دو روزہ میٹنگ کے بعد واشنگٹن کی جانب سے پیش کی جانے والی حل طلب امور کو حل کرنے کے لیے کچھ تجاویز پیش کی گئی تھیں تاکہ خلا کو جلد پر کیا جا سکے۔

لیکن مذاکرات سے واقف اسرائیلی، فلسطینی اور دیگر ذرائع کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں۔

لیکن اس سب کے باوجود کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جنگ بندی کا معاہدہ قریب ہے یا دور؟

مصری سینٹر فار پولیٹیکل اینڈ اسٹریٹجک تھاٹ اینڈ اسٹڈیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر میجر جنرل محمد ابراہیم الدویری نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے مرحلے پر ہیں جو غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے حصول کے قریب ہے۔ ہم اس مرحلے کو نومبر 2023ء سے تلاش کر رہے ہیں، لیکن ہمیں یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ جنگ بندی مطلوبہ ہدف حاصل نہیں کر سکے گی۔ اگر اسرائیلی موقف اسی طرح سخت رہا تو جنگ بندی بات چیت پوائنٹ صفر پربھی جا سکتی ہے۔

میجر جنرل محمد ابراہیم الدویری

مصری دانشور نے انکشاف کیا کہ جنگ بندی کے نفاذ سے متعلق تفصیلی پہلوؤں میں اب بھی اختلافات موجود ہیں۔ ان میں غزہ کی پٹی کے جنوب اور مرکز میں بے گھر ہونے والے لوگوں کی شمالی غزہ کے علاقے میں واپسی کے طریقہ کار اور کنٹرول جیسےامور شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ اہم علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلاء پربھی اختلاف ہے۔ نیٹزاریم اور فلاڈیلفیا ایکسز، رفح کراسنگ آپریشن اور دونوں طرف سے رہا کیے گئے قیدیوں کی نوعیت ایسے امور ہیں جن پر مزید بحث کی ضرورت ہے اور اس پر دونوں فریق متضاد موقف رکھتے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ فلاڈیلفیا محور اور نیٹزارم پر اپنی فوج برقرار رکھنا چاہتا ہے مگر حماس ہرصورت میں اسرائیلی فوج کا انخلاء چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ ان مسائل کو حل کرنا اتنا آسان نہیں جتنا کہ کچھ لوگ زمینی صورت حال کی پیچیدگی کے پیش نظر تصور کرتے ہیں۔ سب سے بڑا مخمصہ اسرائیلی وزیراعظم کا موقف ہے۔ کیونکہ ان کے بیانات سے لگتا ہے کہ انہیں جنگ بندی میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کے مفادات میں پہلی ترجیح حکمران اتحاد کو برقرار رکھنا اورجنگ جاری رکھنا ہے۔ نیتن یاھو کا خیال ہے کہ جب تک وہ غزہ میں اپنے عسکری اہداف مکمل نہیں کرلیتے اس سے پہلے جنگ بندی اسرائیل کی شکست تصورہوگی۔

میجر جنرل الدویری نے کہا کہ اگر دوحہ مذاکرات نے ٹھہرے ہوئے پانیوں کو ہلچل مچا دی ہے تو یہ خیال کیا جاتا ہے کہ قاہرہ مذاکرات کے نتیجے میں تمام اہم اور ذیلی امور پر مکمل اتفاق ہو جائے گا تاکہ جنگ بندی جلد از جلد شروع ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر واشنگٹن نے اس عرصے کے دوران اپنی کوششیں تقریباً غیر معمولی انداز میں تیز کر دی ہیں اور امریکی وزیر خارجہ بلنکن غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد اپنے نویں یا دسویں دورے پر خطے میں آئے ہیں تو یہ بات منطقی یا قابل فہم نہیں ہے۔ امریکہ کہ یہ کوششیں بھی ناکامی پر ختم ہوں گی جیسا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی مکمل طور پر ضروری ہو گئی ہے، یہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے نہیں، بلکہ انسانی امداد پہنچانے اور قتل و غارت کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔

مصری دانشور نے مزید کہا کہ اگر مصر، قطر اور امریکہ کی طرف سے جاری ہونے والے حالیہ سہ فریقی بیان میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کہ ان کے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے، تو اب ضرورت اس بات کی ہے کہ واشنگٹن اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔

اگر بین الاقوامی برادری حماس رہ نما اسماعیل ھنیہ کے تہران میں قتل اور حزب اللہ کمانڈر فواد شکر کے بیروت میں قتل کے بعد لمحہ بہ لمحہ ایرانی ردعمل کا انتظار کر رہی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ جنگ بندی مذاکرات امید کی ایک کرن ہیں جواس متوقع ردعمل کی شدت کو کم یا محدود کر سکتےہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ واضح ہے کہ خطے میں برف کا گولہ دھیرے دھیرے گھوم رہا ہے۔ یہ عارضی طور پر صرف جنگ بندی کے نتیجے میں رکے گا۔ یہاں مجھے یہ سوال اٹھانا چاہیے اور اسے امریکی حکام تک پہنچانا چاہیے کہ کیا اسرائیلی مفادات امریکی سٹریٹیجک مفادات سے زیادہ اہم ہو گئے ہیں؟ ایک اور سوال یہ کہ کیا واشنگٹن انتہا پسند اسرائیلی موقف کی وجہ سے خطے اور حتیٰ کہ دنیا میں اپنی پوزیشن مزید خراب ہونے کا انتظار کر رہا ہے؟

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں