کملا ہیرس ڈیموکریٹک پارٹی کے کنونشن کے آخری روز اسٹیج پر آئیں تو ہال ان کے نام کے نعروں سے گونج اٹھ
اسرائیل کے ’حقِ دفاع‘ کی حامی کملا ہیرس غزہ میں ’دل دہلا دینے والی تباہی‘ پر افسردہ
میں تمام امریکیوں کی صدر ہوں گی: کاملا ہیرس کا پارٹی کی صدارتی نامزدگی قبول کرتے ہوئے ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن سے خطاب میں اعلان
امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس نے کہا کہ غزہ میں ہونے والی تباہی ’دل دہلا دینے والی‘ ہے۔ ’میں ہمیشہ اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کے لیے کھڑی رہوں گی اور میں ہمیشہ اس بات کو یقینی بناؤں گی کہ اسرائیل اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘
نائب صدر نے اس سال نومبر کے انتخابات کے لیے پارٹی کی صدارتی نامزدگی کو قبول کرتے ہوئے ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن میں حامیوں سے خطاب میں کہا کہ وہ صدر جو بائیڈن کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی کے لیے کام کر رہی ہیں تاکہ اسرائیل محفوظ ہو، قیدیوں کو رہا کیا جائے، غزہ میں مصائب ختم ہوں اور فلسطینی عوام اپنے وقار، سلامتی، آزادی اور خود ارادیت کے حق کا احساس کر سکیں۔‘
غزہ میں حماس کے خلاف تنازع میں اپنے اتحادی اسرائیل کے لیے امریکی حمایت ڈیموکریٹک پارٹی میں سب سے زیادہ تقسیم کرنے والے مسائل میں سے ایک بن گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک امیدوار نے ایک ایسا صدر بننے کا عزم کیا جو امریکیوں کو ’متحد‘ کرے گا۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ’ہمارے ملک کو ماضی کی طرف واپس لے جانا‘ کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا۔
شکاگو میں چار روز تک جاری رہنے والے ڈیموکریٹک کنونشن کے آخری روز کملا ہیرس اسٹیج پر آئیں تو ہال ان کے نام کے نعروں سے گونج اٹھا۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے، امریکی نائب صدر نے اصرار کیا کہ وہ متوسط طبقے کے لیے رپبلکن ٹرمپ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط لڑاکا ثابت ہوں گی۔، بندوق کے تشدد کو کم کرنے کی حامی ہوں گی، اور غیر دستاویزی سرحدی گزرگاہوں کو کم کرنے کے لیے خستہ حال امیگریشن نظام کی اصلاح میں مدد کریں گی۔
امریکہ کی پہلی سیاہ فام ایشیائی خاتون صدر؟
کملا ہیرس پہلی سیاہ فام خاتون اور پہلی ایشیائی ہیں جنہوں نے امریکہ کی ایک بڑی سیاسی جماعت کی صدارتی نامزدگی قبول کی ہے۔ اگر وہ منتخب ہوتی ہیں تو امریکہ کی پہلی خاتون صدر ہوں گی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
رواں برس پانچ نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں کملا ہیرس کا مقابلہ ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے ہو گا۔
جمعرات کو کملا پارٹی کے نیشنل کنونشن میں آئیں تو انہوں نے خواتین ڈیلیگیٹس کی بڑی تعداد کو دیکھا، اس موقع پر ان کے کئی ڈیموکریٹک حامیوں نے سفید لباس زیب تن کیا ہوا تھا جو امریکہ میں خواتین کے ووٹ کے حق کے لیے 1920 کی تحریک کی علامت ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے نیشنل کنونشن کے آخری روز ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا تھا اور نائب صدر کے امیدوار ٹم والز بھی پاپ اور کلاسک گانوں پر رقص کر رہے تھے۔
اداکارہ کیری واشنگٹن نے اسٹیج پر کملا ہیرس کی دو پوتیوں کو متعارف کرایا اور حاضرین کو بتایا کہ ان کے نام کے درست تلفظ کی ادائیگی کس طرح کی جائے گی، جس پر ہال کے ایک طرف 'کوما' کی آواز گونجنے لگی جب کہ دوسری طرف سے 'لا' کی آواز بلند ہوئی۔
کملا کے خطاب میں والدین کا ذکر
کملا ہیرس کے والد کا تعلق جمیکا اور والدہ کا بھارت سے تھا۔ جمعرات کو انہوں نے لوگوں سے بھرے کنونشن ہال میں حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے انتخابات میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔ کملا ہیرس کے خطاب سے قبل نائب صدر کے لیے ان کی جانب سے منتخب کردہ امیدوار ٹم والز نے گزشتہ روز خطاب کیا تھا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ہیرس نے پیر کو کنونشن کے پہلے روز اپنی مختصر گفتگو میں صدر بائیڈن کا شکریہ ادا کیا تھا جس کے بعد منگل کو بھی انہوں نے گفتگو کی۔
جمعرات کو کملا سے قبل ریاست مشی گن کے گورنر گریچن واٹمر، نارتھ کیرولائنا کے گورنر روئے کوپر، ایریزونا کے ڈیموکریٹ گیبی گفورڈز اور انسانی حقوق کے رہنما ال شارپٹن نے بھی خطاب کیا۔
ری پبلکنز سے حمایت کی اپیل
کملا ہیرس نے اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ مخالف ری پبلکن سے اپیل کی کہ وہ پارٹی سے تعلق کو ایک طرف رکھتے ہوئے ٹرمپ کے مقابلے میں ان کی حمایت کریں۔ ٹرمپ نے 2020 کے انتخابات میں بائیڈن سے شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور انہوں نے چھ جنوری 2021 کو کیپٹل ہل پر دھاوے کی حوصلہ افزائی کی تھی۔
کملا نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ آج مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے لوگ میرا خطاب سن رہے ہیں، میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں اور وعدہ کرتی ہوں کہ میں تمام امریکیوں کی صدر ہوں گی اور میں امریکی اصولوں کے تحفظ، بنیادی حقوق، قانون کی بالادستی، شفاف انتخابات اور پرامن انتقالِ اقتدار کا وعدہ کرتی ہوں۔
جب صدر بائیڈن جون میں ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے صدارتی مباحثے میں ناکام ہوئے تو ہیرس نے اس وقت تک ان کا بھرپور دفاع کیا جب تک انہوں نے خود کو انتخابی دوڑ سے الگ نہیں کر لیا تھا۔ بائیڈن کے تعاون کے بعد کملا نے ڈیموکریٹک پارٹی کو جلد متحد کر دیا تھا اور صدارتی دوڑ کو دوبارہ منظم کیا تھا جس میں ٹرمپ کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔
ہیرس نے رواں ہفتے ہی ملواکی میں کہا تھا، "ہم جانتے ہیں کہ اس لمحے ہم کس چیز سے نمٹ رہے ہیں اور ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کس طرح ہم سے پہلے ہماری نسلوں نے آزادی کے لیے لڑائی کی قیادت کی ہے۔ اب اس کا علم ہمارے ہاتھوں میں ہے۔"