اسرائیلی بمباری کے بعد تباہ حال غزہ کا منظر

غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے بات چیت ، موساد اور شاباک کے سربراہان قاہرہ میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے اعلان کے مطابق انٹیلی جنس اداروں 'موساد' اور 'شاباک' کے سربراہان قاہرہ پہنچ گئے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے معاہدے کے حوالے سے بات چیت کے لیے ان کے ساتھ امریکی وفد بھی موجود ہے۔

نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ "وہ رپورٹیں جن میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل فلاڈلفیا راہ داری میں بین الاقوامی فوج رکھنے پر غور کر رہا ہے، درست نہیں ... وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اس موقف پر قائم ہیں کہ اسرائیل کو فلاڈلفیا راہ داری پر اپنا کنٹرول رکھنا چاہیے تا کہ حماس کو دوبارہ مسلح ہونے سے روکا جا سکے اور وہ 7 اکتوبر کی طرح کی شرم ناک حرکتوں کا دوبارہ ارتکاب نہ کرے"۔

اسرائیلی ذمے داران نے امریکی نیوز ویب سائٹ axios کو بتایا کہ ان کے پاس فلاڈلفیا راہ داری میں اسرائیلی فوج کی تعیناتی کے حوالے سے نیا نقشہ ہے۔ مزید یہ کہ قاہرہ بات چیت کا مقصد معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں حائل آخری رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اس سے قبل العربیہ / الحدث نیوز چینلوں کے ذرائع نے بتایا تھا کہ مصر میں مذاکرات دو روز تک جاری رہیں گے۔ اختلافات دور ہونے کی صورت میں بات چیت کی نشستوں میں توسیع کر دی جائے گی۔

قاہرہ نے مذاکرات کی کامیابی کے لیے فلاڈلفیا راہ داری سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی شرط رکھی ہے جب کہ تل ابیب حکومت ابتدائی طور پر رواں سال کے اختتام تک اس راہ داری میں اپنی فوج کو رکھنے کی خواہش مند ہے۔

غزہ معاہدے کی بات چیت سے با خبر ذرائع کا اسرائیلی نشریاتی ادارے پر ایک بیان نشر ہوا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مصر اور قطر سمجھتے ہیں کہ معاہدے تک پہنچنے کا واحد طریقہ اسرائیلی وزیر اعظم پر دباؤ ڈالنا ہے تا کہ وہ اپنے بعض مواقف سے پیچھے ہٹ جائیں اور اسرائیلی مذاکراتی ٹیم کو وسیع تر اختیارات دیے جائیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں