چھ قیدیوں کی لاشیں اسرائیل کو واپس کر دی گئیں

اسرائیلی قیدیوں کی نگرانی پرمامور محافظوں کے لیے حماس کی نئی ہدایات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ تحریک نے اسرائیلی قیدیوں کی نگرانی پرمامور محافظوں کو نئی ہدایات جاری کی ہیں کہ اگر اسرائیلی فورسز حراستی مقامات تک پہنچیں تو ان سے نمٹنے کے لیے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ یہ ہدایات چھ قیدیوں کی حالیہ ہلاک کے بعد جاری کی گئی ہیں تاہم ان ہدایات کی مزید نوعیت واضح نہیں ہوسکی۔

ابو عبیدہ نے ٹیلی گرام ایپلی کیشن کے ذریعے زور دیا کہ "(اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن) نیتن یاہو کی جانب سے قیدیوں کو معاہدے کے بجائے فوجی دباؤ کے ذریعے آزاد کرنے پر اصرار کا مطلب ہوگا قیدی اپنے خاندانوں کے پاس زندہ واپس جانے کے بجائے ان کے تابو جائیں گے‘‘۔

انہوں نے نیتن یاہو اور فوج کو غزہ کی پٹی میں حراست میں لیے گئے قیدیوں کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے "قیدیوں کے تبادلے کے کسی معاہدے میں جان بوجھ کر خلل ڈالنے کا ذمہ دار قرار دیا"۔ ابو عبیدہ نے اسرائیلی حکام پر غزہ پر بمباری کے دوران جان بوجھ کر درجنوں قیدیوں کو ہلاک کرنے کا الزام بھی لگایا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کہا تھا کہ حماس کے جنگجوؤں نے غزہ کی پٹی میں ایک سرنگ سے برآمد ہونے والے چھ قیدیوں کو "سر کے پچھلے حصے میں گولی مار کرقتل کردیا تھا"۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ "ان قاتلوں نے ہمارے چھ قیدیوں کو سر کے پچھلے حصے میں گولی مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا"۔

حکومت مخالف مظاہروں کے دوسرے دن پیر کی شام جب ہزاروں مظاہرین تل ابیب میں جمع ہوئے تو وزیر اعظم نے چھ قیدیوں کو نہ چھڑانے کے لیے "معافی" مانگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم قریب تھے لیکن حماس کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں