امریکی محکمہ انصاف
حماس کی قیادت کے خلاف امریکی الزامات کی فہرست جاری
امریکا میں محکمہ انصاف نے منگل کے روز حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ یحیی السنوار سمیت تنظیم کی سینئر قیادت کے خلاف مجرمانہ الزامات کا اعلان کیا ہے۔ محکمے کے بیان کے مطابق یہ افراد "اسرائیلی ریاست" کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق الزامات کی فہرست مؤرخہ یکم فروری کو تیار کی گئی تھی جس میں 6 شخصیات کے نام ہیں۔ دستاویزات میں ان افراد کے خلاف دہشت گردی سے متعلق سات الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں دہشت گردی کے لیے مادی سپورٹ فراہم کرنے کی سازش شامل ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یہ مقدمہ خفیہ رکھا گیا تھا اور امریکی وفاقی عدلیہ نے منگل کے روز اس پر سے پردہ ہٹایا۔
ملزمان میں سے تین افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ان میں حماس کے سیاسی دفتر کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ، حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے چیف محمد الضیف اور القسام بریگیڈز کے نائب عسکری کمانڈر مروان عیسی شامل ہیں۔
دیگر تین زندہ ملزمان میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ یحیی السنوار، بیرون ملک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خالد مشعل اور لبنان میں حماس کے سینئر رہنما علی برکہ ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
امریکی وزیر انصاف میرک گارلینڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "ملزمان نے ہتھیاروں، سیاسی حمایت، ایرانی حکومت کی فنڈنگ اور حزب اللہ کی سپورٹ کے ذریعے اسرائیلی ریاست کو تباہ کرنے کی حالیہ تحریک کی قیادت کی"۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان چھ ملزمان نے کئی دہائیوں تک امریکی شہریوں کے قتل اور امریکا کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی مہم کی قیادت اور فنڈنگ کی۔
امریکی استغاثہ نے ان چھ افراد کے خلاف رواں سال فروری میں الزامات کی فہرست جاری کی تھی۔ البتہ مقدمے کو اس امید کے ساتھ خفیہ رکھا گیا تھا کہ اسماعیل ہنیہ کو زندہ پکڑ لیا جائے گا۔ تاہم ہنیہ کی ہلاکت کے بعد امریکی وزارت انصاف نے الزامات کے انکشاف کا فیصلہ کیا۔ یہ بات وزارت انصاف کے ایک عہدے دار نے بتائی۔