ایرانی بیلسٹک میزائل (آرکائیوز - رائٹرز)

ایران نے روس کو بیلسٹک میزائل منتقل کئے ہیں: یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل روس کو منتقل کرنے کا معاملہ ایک بار پھر منظر عام پر آگیا ہے۔ یورپی یونین نے پیر کے روز انکشاف کیا کہ اس کے اتحادیوں کے پاس انٹیلی جنس معلومات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران نے ماسکو کو بیلسٹک میزائل فراہم کیے ہیں۔ یورپی یونین نے ان کھیپوں کی تصدیق ہونے پر تہران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا بھی انتباہ دیا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یونین کے ترجمان پیٹر سٹینو نے کہا کہ ہم روس کو ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی فراہمی کے حوالے سے اتحادیوں کی جانب سے فراہم کردہ قابل اعتماد معلومات سے آگاہ ہیں۔ تاہم ان معلومات پر ایرانی ردعمل آنے میں زیادہ دیر نہیں لگی ۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے سینئر رہنما فضل اللہ نوزری نے ان رپورٹوں کو محض ایک "نفسیاتی جنگ" قرار دیا ہے۔

کریملن نے اس معلومات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صرف یہ کہا کہ ایران روس کا شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک تمام شعبوں میں تعاون اور بات چیت کو فروغ دے رہے ہیں۔ کریملن نے ان معلومات کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

روسی یوکرین جنگ

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے اتوار کو روس یوکرین تنازع میں ان کے ملک کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تہران کبھی بھی روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا حصہ نہیں رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا ان کے ملک نے جنگ کے آغاز سے ہی سیاسی حل اور دو طرفہ مذاکرات کی حمایت کی ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو مطلع کیا کہ اس کا خیال ہے کہ تہران نے یوکرین میں جنگ میں استعمال کے لیے ماسکو کو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل منتقل کیے ہیں۔ یہ انکشاف ہفتے کے روز دو باخبر ذرائع نے ایسوسی ایٹ پریس کو کیا ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اسلحے کی منتقلی کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا تاہم اس نے اپنی تشویش کا اعادہ کیا کہ ایران روس کے لیے اپنی حمایت کو گہرا کر رہا ہے۔

یاد رہے واشنگٹن نے مہینوں پہلے تہران کو بیلسٹک میزائل ماسکو منتقل کرنے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے ایک سابق بیان میں کہا تھا کہ روس کو ایرانی میزائلوں کی کسی بھی منتقلی سے یوکرین کے خلاف روس کی جارحانہ جنگ کے لیے ایران کی حمایت میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہو گا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں