جہاں دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار کملا ہیرس اور ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان صدارتی مباحثے کو دیکھا وہیں روس نے بھی اس مباحثے پر رد عمل دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی سرکاری ترجمان ماریا زاخارووا نے صدارتی مباحثے کا موازنہ اس ہنگامہ آرائی سے کیا جو ٹائی ٹینک کے آئس برگ سے ٹکرانے سے 15 منٹ قبل ہوئی تھی، جس کی وجہ سے یہ جہاز ڈوب گیا، جو جدید تاریخ کی بدترین آفات میں سے ایک ہے۔
زاخارووا نے "نووستی" ایجنسی کو دیے گئے بیانات میں مباحثے میں اپنے نقطہ نظر سے فاتح کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان حالات میں اور اس تاریخی دور میں سوال کا لفظ کچھ عجیب ہے۔ آئیے ہم تصور کریں اور تصویر کو قدرے وسیع پیمانے پر دیکھیں"۔
انہوں نے وضاحت کی کہ "طاقتور، بہت مہنگے اور اچھی طرح سے تیار کردہ پانے والے جہاز ٹائٹینک میں ایسے لوگ سوار تھے جو اپنے کام میں اعلیٰ سطح پر پہنچ چکے تھے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ"چونکہ یہ سب واقعتاً ٹائٹینک پر ہوا، آپ کے خیال میں کون جیتا؟ کیا فرق پڑتا ہے؟۔ جہاز نے آخرتباہ ہونا تھا اور اسے آئس برگ سے ٹکرانا تھا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
انہوں نے کہاکہ "میں آپ کو صاف صاف بتاؤں گی، میں نہیں جانتی کہ آپ اس بحث کو اہم خبر کیوں سمجھتے ہیں۔ ہم نے جو بحث دیکھی وہ ان لوگوں کی کارکردگی سے زیادہ کچھ نہیں ہے جو واضح طور پر ان کے الفاظ کی کوئی ذمہ داری برداشت نہیں کرتے۔دو لوگوں کو یہ سننا پاگل پن ہے کہ وہ پوری دنیا کو کیسے سزا دیں گے"۔