اسرائیلی قیادت
ایک مصری تجزیہ نگار نے گذشتہ برس سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے جواب میں غزہ میں شروع کیے گئے تباہ کن اسرائیلی فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں۔
عرب وزرائے داخلہ کی کونسل میں عرب آفس برائے سکیورٹی میڈیا کے سابق ڈائریکٹر میجر جنرل مروان مصطفیٰ نے کہا کہ نیتن یاھو نے سات اکتوبر کو ہونے والے حملے کی تحقیقات کے نتائج کو چھپانے کی کوشش کی تھی مگر ان تحقیقات سے سامنے آنے والی لیکس اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل نے اس حملے سے قبل یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ حماس اپنی افواج کو دن کے وقت کھلے علاقوں میں پیراگلائیڈرز کو اڑانے کی تربیت دے رہی ہے اور اس نے اپنی تربیت کے کچھ حصے انٹرنیٹ پر شائع کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملے کی رات کچھ بارڈر گارڈز کے سپاہیوں نے سرحدی باڑ پر حماس کی نقل و حرکت کی موجودگی کے بارے میں شین بیت کے سربراہ اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کو جگا کر بتایا تھا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
مصری دانشور نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکام نے فون پر رابطہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف حماس کی معمول کی تربیتی سرگرمی ہے۔ اس لیے انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی اس معاملے میں ہمیشہ کی طرح فورسز کے لیے الرٹ کی حالت میں اضافہ کیا۔
اسرائیلی فوج اگلی صبح اس حملے سے حیران رہ گئی اور اس نے دریافت کیا کہ اس کے بہت سے فوجی مارے گئے ہیں۔ اس کا ردعمل سست تھا، کیونکہ وہ اپاچی ہیلی کاپٹروں کو حرکت دینے کی کوشش کررہے تھے۔ ان ہیلی کاپٹروں نے اسرائیلی کنسرٹ میں بڑی تعداد میں شرکاء کو ان کے فرار کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
قیدی اور بچے
مصری دانشور میجر جنرل ریٹائرڈ مروان مصطفیٰ نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے 73 قیدیوں کو ان کے گھروں سے لاپتہ کیا اور میڈیا نے بھی ایک جھوٹے اور غیر حقیقی واقعے پر توجہ مرکوز کی، جس میں الزام لگایا کہ حماس نے 40 بچوں کے سر قلم کیے اور تحریک کے ارکان قیدیوں کے خلاف تشدد اور جنسی زیادتیوں کا ارتکاب کر رہے تھے۔ تحقیقات نگران کمیٹی نے ان تمام الزامات کی چھان بین کی مگر اسے کوئی مجرمانہ ثبوت، فوٹو گرافی یا بصری تصاویر، یا ان واقعات کے ہونے کا کوئی گواہ بھی نہیں ملا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
انہوں نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اسرائیل کی سات اکتوبر کے حملوں کا مقابلہ کرنے میں ناکامی اور نیتن یاہو کو اپنے سیاسی مستقبل کے خوف کے پیش نظرجنگ کے بعد اپنے خلاف متوقع مقدمے سے بچنے اور اس مشکل سے نکلنے کا کوئی معقول راستہ تلاش کرنا تھا۔ تاکہ ان کا اقتدار برقرار رہ سکے۔
انہیں اپنی بقاء صرف اسی صورت میں دکھائی دیتی ہے وہ جنگ کو طول دیتے رہیں اور امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ صدر بن جائیں۔ اس کے بعد ٹرمپ اسرائیل کے لیے اپنے کیےگئے وعدوں کے مطابق غزہ اور غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرکے ’گریٹر اسرائیل‘ کا اعلان کردیں اور دو ریاستی حل کوہمیشہ کے لیے دفن کردیں‘۔
سابق مصری فوجی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ نیتن یاہو نے درج ذیل محوروں پر تیزی سے آگے بڑھنا شروع کیا ہے۔
تین محوروں پر کام
پہلا محور: غزہ میں تباہی اور بربادی جیسے حالات غرب اردن میں پیدا کرنا ہے۔ اس کے لیے اسرائیل ایرانی مداخلت کا الزام لگا کر غرب اردن میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں کرے گا تاکہ فلسطینی باشندوں کو اردن کی طرف نقل مکانی پرمجبور کیا جا سکے۔
دوسرا محور: مصری دانشورکا کہنا ہے نیتن یاہو نے لبنان پر وسیع زمینی حملے کی راہ ہموار کرنے اور حزب اللہ کے مضبوط ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے جنوبی لبنان میں کارروائی شروع کی ہے۔ وہ اس طرح ایک بفر زون قائم کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تاکہ حزب اللہ کو کمزور کیا جا سکے۔
اس طرح نیتن یاھو لبنان کو دریائے لیطانی سے پیچھے ہٹنے پرمجبور کردے۔اس سے شمالی اسرائیل کی بستیوں میں امن بحال ہوجائے گا۔
تیسرامحور: صدی کی ڈیل کو ناکام بنانے اور سینا کے لیے نقل مکانی کے منصوبے کو مسترد کرنے بعد نیتن یاھو مصر کو اسرائیل کے لیے ایک حقیقی خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس لیے وہ ہر طرح سے کوشش کرتے ہیں وہ قاہرہ کو جزیرہ نما سینا کی نقل مکانی کو قبول کرنے پر مجبور کرے۔ وہ غزہ پر دوبارہ قبضہ کرنے، رفح کراسنگ اور فلاڈیلفیا کے محور پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے پر اسی لیے اصرار کررہا ہے۔ مصرکے قریب مقامات پر قتل عام اور طاقت کے اندھا دھند استعمال کا مقصد مصرکو فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔