ایک فرانسیسی پولیس اہلکار کیلے، فرانس کے قریب سانگات میں 29 نومبر 2022 کو ساحل پر پڑی ایک چھوٹی کشتی کے پاس کھڑا ہے۔ تارکینِ وطن نے ربڑ کی اس چھوٹی کشتی کا انجن چلانے کی کوشش کی جسے وہ شمالی فرانس کے ساحل سے نکلنے اور انگلش چینل کو عبور کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)

چینل عبور کرنے کی کوشش میں 'متعدد تارکینِ وطن' ہلاک: فرانسیسی حکام

اس سال پہلے ہی 25 تارکین وطن ہلاک ہو چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی علاقائی حکام نے کہا کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات کئی تارکین وطن فرانس سے انگلینڈ جانے کی کوشش کے دوران ہلاک ہو گئے۔ اس سال ایسا ہی ایک مہلک ترین حادثہ دو ہفتے سے بھی کم عرصہ قبل پیش آیا تھا۔

پا-ڈی- کیلے پری فیکچر نے متأثرین کی تعداد بتائے بغیر کہا، "متعدد تارکین وطن اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔"

علاقائی پریفیکٹ جیکس بلنٹ کے دفتر نے بتایا کہ وہ صبح 10:00 بجے (0800 جی ایم ٹی) ایک نیوز کانفرنس کرنے والے تھے۔

سمندری حکام نے ہفتے کے روز کہا کہ تارکینِ وطن نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے چینل عبور کرنے کی متعدد خطرناک کوششیں حالیہ دنوں میں کی ہیں اور صرف جمعہ اور ہفتہ کے دوران 24 گھنٹوں میں 200 افراد کو بچایا گیا۔

اس ماہ کم از کم 12 تارکینِ وطن شمالی فرانس کے ساحل پر اس وقت ہلاک ہو گئے جب درجنوں افراد کو لے جانے والی کشتی الٹ گئی۔

اس سال چینل عبور کرنے کی کوشش میں پہلے ہی 25 تارکین وطن کی ہلاکت کا واقعہ ہو چکا ہے جو اس نوعیت کا مہلک ترین حادثہ تھا۔ 2023 میں 12 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

فرانسیسی اور برطانوی حکومتیں برسوں سے تارکینِ وطن کی آؐمد کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں جو چھوٹی کشتیوں میں سوار ہو کر فرانس سے انگلینڈ جانے کے لیے سمگلروں کو فی کس ہزاروں یورو ادا کرتے ہیں۔

برطانوی حکام کے مطابق اس سال کے آغاز سے اب تک 22,000 سے زائد تارکینِ وطن چینل عبور کر کے انگلینڈ پہنچے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں