جوناتھن رینالڈز پانچ جولائی 2024 کو لندن، برطانیہ میں انتخابی نتائج کے بعد 10 ڈاؤننگ سٹریٹ سے گذر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)
برطانیہ کے وزیرِ تجارت سعودی عرب میں خلیجی ریاستوں کے حکام سے ملاقات کریں گے
برطانوی حکومت کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز جمع کرنا ہے
برطانیہ کے وزیرِ تجارت جوناتھن رینالڈز پیر کو سعودی عرب میں خلیجی ریاستوں کے حکام سے ملاقات کریں گے۔ برطانوی حکومت اگلے ماہ سرمایہ کاری کے اہم سربراہی اجلاس سے قبل نقدی سے مالا مال خطے سے تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
رینالڈز پیر کو ریاض میں خلیج تعاون کونسل کے ارکان کے ساتھ تجارتی معاہدے کے عزائم پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ یہ بلاک بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل ہے۔ ڈپارٹمنٹ فار بزنس اینڈ ٹریڈ نے کہا کہ اس معاہدے کے لیے جولائی میں مذاکرات شروع ہوئے جو برطانیہ کی معیشت میں ایک اعشاریہ چھے بلین پاؤنڈ (2.1 بلین ڈالر) تک اضافہ کرے گا۔
یہ ملاقات برطانیہ کے بعض بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے نمائندوں کے ساتھ اور ایسے وقت میں ہو گی جب حکومت اپنے پرعزم ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز جمع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیبر پارٹی چاہتی ہے کہ برطانیہ جی سیون گروپ کی بڑی معیشتوں میں تیز ترین پائیدار شرح سے ترقی کرے۔
یہ نجی سرمائے کو اپنی طرف متوجہ کرکے ترقی پیدا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور 14 اکتوبر کو ایک بین الاقوامی سرمایہ کاری سمٹ کی میزبانی کر رہا ہے جب اسے اربوں پاؤنڈ کے وعدوں کا اعلان کر سکنے کی امید ہے۔
رینالڈز اور وزیرِ تجارت ڈگلس الیگزینڈر اس بات پر زور دیں گے کہ برطانیہ ٹیکنالوجی، لائف سائنسز، تخلیقی صنعتوں، مالیاتی خدمات اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں مہارت کا حامل سرمایہ کاری کا ایک اہم مقام ہے۔
خلیجی ریاستیں برطانیہ میں بہت زیادہ سرمایہ کار رہی ہیں۔ سعودی عرب کا خودمختار دولت فنڈ اس وقت ہیتھرو ایئرپورٹ کے حصص خرید رہا ہے جس کا 20 فیصد پہلے ہی قطر کی ملکیت ہے۔ لیکن حال ہی میں خطے میں تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔
ابوظہبی جس نے 2021 میں برطانیہ میں اپنے مبادلہ دولت فنڈ کے ذریعے 10 بلین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا، اسے اس سال کے شروع میں ٹیلی گراف اخبار کو خریدنے سے روک دیا گیا اور نگران ادارے کے ساتھ تناؤ کے درمیان برطانیہ کے سب سے بڑے آبی آپریٹر ٹیمز واٹر میں اس کے تمام حصص ختم کر دیئے گئے۔
ابوظہبی کے شیخ منصور بن زاید النہیان کے ملکیتی اور پریمیئر لیگ فٹ بال کے چیمپئنز مانچسٹر سٹی کو منصفانہ کھیل کے قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر ممکنہ طور پر مہنگی سماعت کا سامنا ہے۔
رینالڈز نے کہا، "معاشی ترقی اس حکومت کو متحرک کرنے والا مشن ہے اور دنیا کی بعض بڑی معیشتوں کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانا اس کے لیے اہم ہے۔"