خبر رساں اداروں کا شناخت کردہ ایک مشتبہ شخص ریان ڈبلیو روتھ تین مئی 2022 کو وسطی کئیف میں ایک ریلی کے دوران دیکھا گیا جس میں ماریوپول سے یوکرینی فوج اور عام شہریوں کے انخلاء کے لیے بین الاقوامی رہنماؤں سے انسانی ہمدردی کے تحت راہداری کا اہتمام کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ایف بی آئی اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ وہ فلوریڈا میں ریپبلکن صدارتی امیدوار اور سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر بظاہر ایک قاتلانہ حملہ میں ملوث تھا۔ (رائٹرز)

زیلنسکی کی ٹرمپ کے قاتلانہ حملے کے بعد سیاسی تشدد کی مذمت

قاتلانہ حملے میں گرفتار مشتبہ شخص سے یوکرین کا اظہارِ لاتعلقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کو ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بظاہر ایک قاتلانہ حملے کے بعد سیاسی تشدد کی مذمت کی۔ یہ حملہ مبینہ طور پر ایک مشتبہ شخص نے کیا جس نے جنگ کی کوششوں کی حمایت کے لیے یوکرین کا سفر کیا تھا۔

امریکی خفیہ سروس کے ایجنٹوں نے ٹرمپ کے فلوریڈا گالف کورس کی حدود کے قریب اے کے-47 طرز کی رائفل تھامے "ایک بندوق بردار پر گولی چلا دی" تھی جہاں سابق صدر اتوار کو گالف کھیل رہے تھے۔ اس کے بعد امریکی میڈیا نے 58 سالہ ریان ویزلی روتھ کا نام دیا جب مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔

زیلنسکی نے ٹرمپ اور ان کے خاندان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ اچھا ہے کہ قاتلانہ حملے میں مشتبہ شخص کو جلد پکڑ لیا گیا۔ یہ ہمارا اصول ہے: قانون کی حکمرانی اہم ترین ہے اور سیاسی تشدد کی دنیا میں کہیں بھی جگہ نہیں ہے۔"

روتھ نے قبل ازیں روسی حملے کے خلاف یوکرین کی جنگ کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

اے ایف پی نے اپریل 2022 کے آخر میں کئیف میں روتھ کا انٹرویو کیا جب وہ بندرگاہی شہر ماریوپول میں پھنسے یوکرینی باشندوں کی حمایت میں ایک مظاہرے میں شریک تھے۔

لیکن یوکرینی حکام نے خود کو روتھ سے دور کر لیا۔

یوکرین کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، "اس نے یہاں خدمات انجام نہیں دیں اور اس کا ریاستی ڈھانچے سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ یقینی بات ہے۔ وہ یوکرین میں ایک غیر اہم اور صرف ایک حامی کے طور پر داخل ہوا، ایسے کئی لوگ ہیں۔"

غیر ملکی رضاکاروں پر مشتمل یوکرین کی بین الاقوامی سپاہ نے بھی کسی قسم کے روابط کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مشتبہ شخص نے ان کے ساتھ کام نہیں کیا تھا اور اس کا "یونٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔"

فروری 2022 میں روس کے حملے کے بعد سے امریکہ یوکرین کا سخت حامی رہا ہے۔

صدر جو بائیڈن کی جگہ اگلے جنوری میں یا تو ان کی نائب صدر کملا ہیرس لے لیں گی جنہوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ یوکرین کی حمایت کے لیے بائیڈن کی پالیسیاں جاری رکھیں گی یا ٹرمپ صدر ہوں گے جنہوں نے اس ہفتے کے اوائل میں ہونے والی بحث میں یہ نہیں کہا آیا وہ چاہتے ہیں کہ کئیف جنگ جیتے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں