سعودی عرب کے کنگ سلمان سنٹر کی جانب سے غزہ کے لیے فراہم کردہ امدادی بیگ

غزہ میں 16لاکھ سے زیادہ فلسطینی پناہ گزینوں کو ہدف بنا رہے ہیں: شاہ سلمان امدادی مرکز

کراسنگ بند کرنا اور جنگ نہ روکنا چیلنجز ہیں: سعودی مرکز کے ترجمان سامر الجطيلی کی العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شاہ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر کے سرکاری ترجمان ڈاکٹر سامر الجطيلی نے ان مشترکہ تعاون کی یادداشتوں اور مالی تعاون کے وجود کا انکشاف کیا ہے جو اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (UNRWA) کی ہنگامی اپیل کا جواب ہیں۔ ایجنسی کی طرف سے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے لیے امداد فراہم کی گئی۔ خوراک، پناہ گاہ، ادویات اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی بنیادوں پر کارروائیوں کے تعاون سے متعلقہ ہنگامی پروگراموں کی معاونت کی جارہی ہے۔

ہدف بنائے گئے گروپ

سامر الجطيلی نے کہا کہ ہدف والے گروہوں میں 16 لاکھ سے زیادہ فلسطینی پناہ گزین اور بے گھر افراد ہیں، جن میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں جو غزہ کی پٹی پر جنگ سے متاثر ہوئے اور بے گھر ہو گئے اور ایک باوقار زندگی کے بنیادی اجزاء سے محروم ہوگئے ہیں۔

سامر الجطيلی نے وضاحت کی کہ غزہ کی پٹی میں امداد کی ترسیل میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز میں کراسنگ کو بند کرنا اور جنگ کو نہ روکنا شامل ہے۔ انسانی ہمدردی کے اداروں کو امداد غزہ میں داخل کرنے کے قابل بنانا ہوگا ۔ کراسنگ پر امداد کا جمع ہونا اور اس کے داخلے میں تاخیر ہونے سے مصائب بڑھ رہی ہیں۔ موسمی حالات، کراسنگ کی مسلسل بندش، اقوام متحدہ کے دفاتر میں صلاحیتوں کی کم سطح کی وجہ سے امداد کی حفاظت میں مشکلات ہیں۔

او سی ایچ اے نے فلسطینیوں کے بڑھتے ہوئے مصائب سے خبردار کیا ہے ۔ شہریوں کے تحفظ، ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ سامر الجطيلی نے بتایا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ جب تک تنازع جاری رہے گا اور امداد پر پابندیاں جاری رہیں گی تو غزہ میں قحط کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ غزہ کی 96 فیصد آبادی اس وقت (ستمبر 2024 ) تک شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ غزہ کی پٹی میں قحط کو عبوری درجہ بندی کے چوتھے مرحلے میں شمار کیا جارہا ہے۔

سامر الجطيلی نے مزید کہا کہ فراہم کی گئی کوششوں نے متاثرین کی تکالیف کے کچھ حصے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تاہم ضرورت اب بھی موجود ہے اور ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے انسانی ہمدردی کے پروگراموں اور منصوبوں کے ذریعے کوششیں جاری ہیں۔

مقامی کمیونٹی کا تعاون

سامر الجتیلی نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ مقامی کمیونٹی پلیٹ فارم ’’ ساھم‘‘کے ذریعے کنگ سلمان سینٹر میں دستیاب عطیہ چینلز کے ذریعے انسانی ہمدردی کی کوششوں کی حمایت میں حصہ لے سکتی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں