جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملہ
حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے مراحل، کیا ہم فیصلہ کن مرحلے پر پہنچ چکے؟
1990 کے آخر تک حزب اللہ کا کردار سیاسی اور عسکری طور پر پھیل گیا اور اس نے گوریلا جنگ شروع کی
اسرائیل اور لبنان کی سرحد کے قریب 10 ماہ سے زائد عرصے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے لیکن ان کے درمیان جنگ کا دائرہ گزشتہ ایک دن اور ایک رات کے دوران وسیع ہوگیا ہے۔ اسرائیل نے اپنی حالیہ جارحیت میں کم از کم 1,100 حملے کیے ۔ تاہم یاد رہے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان حقیقی تنازع کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 1980 کی دہائی کے وسط سے تعلقات فوجی تصادم اور باہمی ڈیٹرنس کے ہتھکنڈوں سے نمایاں رہے ہیں۔ 1982 میں حزب اللہ نے لبنان سے اسرائیلی افواج کو نکالنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا۔
1990 کے آخر تک، پارٹی کا کردار سیاسی اور عسکری طور پر پھیل گیا اور سیکورٹی زون میں اسرائیلی فوج کے خلاف گوریلا جنگ شروع کر دی۔ دس سال بعد 2000 میں اسرائیل نے جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح وہاں سے اس کا کنٹرول ختم ہو گیا جو کہ اٹھارہ سال سے جاری تھا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
2006 کا اہم مرحلہ
پھر ان کے درمیان تنازعہ آہستہ آہستہ شروع ہوا یہاں تک کہ سال 2006 ایک اہم موڑ بن گیا اور سب سے اہم بڑھوتری وہ تھی جسے جولائی کی جنگ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس وقت ان کے درمیان جنگ 34 دن تک جاری رہی اور اقوام متحدہ کی قرار داد تک ختم نہیں ہوئی۔
2006 کی اسرائیل- لبنانی جنگ نے لبنان کے بڑے حصے کو تباہ کر دیا۔ اس وقت اسرائیلی حملوں میں 1100 سے زائد لبنانی مارے گئے تھے جن میں حزب اللہ کے تقریباً 250 جنگجو بھی شامل تھے۔ حزب اللہ کے میزائل حملوں میں اسرائیل کی جانب سے 121 فوجی اور 43 شہری مارے گئے تھے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی بڑی حد تک 2006 کی جنگ کے بعد کے سالوں تک جاری رہی۔ پھر حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان 8 اکتوبر 2023 کو سرحدی تنازع شروع ہو گیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
نازک مرحلہ
اب حزب اللہ 7 اکتوبر 2023 کی غزہ جنگ کے آغاز کے ساتھ ایک اور نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں نیتن یاہو نے کہا کہ ہمارے پاس غزہ کی جنگ سے چوتھا مقصد وہ ہے جو ہم سرحدی محاذ پر حاصل کریں گے۔ تاہم دو لاکھ دونم زمین پر فصلوں کے جلانے اور تقریباً 80 ہزار کے انخلا نے اسے غزہ کی موجودہ جنگ میں ایک مقصد کا اضافہ کر دیا۔ اسرائیل کے باشندوں کی شمال کے قصبوں میں واپسی اور حزب اللہ کو حماس سے الگ کرنا بھی غزہ کی جنگ کا مقصد ہے۔
موجودہ تنازع زیادہ تر سرحد کے دونوں جانب تقریباً 4 کلومیٹر کے دائرے میں پھیلا ہوا ہے۔ گزشتہ منگل کو اسرائیل کی جنگی حکومت کی جانب سے اپنے انتہائی شمال سے بے گھر ہونے والی آبادی کی واپسی کو باضابطہ طور پر ترجیح دینے کے بعد جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس کے بعد سے حزب اللہ کے اہداف پر حملوں میں شدت آگئی۔ لبنانی وزارت صحت نے کہا کہ پیر کے روز اسرائیلی حملوں میں 492 افراد جاں بحق اور 1645 زخمی ہوگئے۔