امریکی صدر جو بائیڈن 23 ستمبر 2024 کو وائٹ ہاؤس میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کا استقبال کرتے ہوئے۔ (رائٹرز)
محمد بن زاید کا دورہ:بائیڈن کایو اے ای کے بڑے امریکی دفاعی شراکت دار کے طور پراعلان
صدر زاید کی کملا ہیرس سے بھی ملاقات ہوئی، سوڈان تنازعہ زیرِ بحث آیا
صدر محمد بن زاید سے ملاقات کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کے روز متحدہ عرب امارات کو امریکہ کا ایک بڑا دفاعی شراکت دار تسلیم کیا۔ اس ملاقات میں غزہ جنگ اور شرقِ اوسط میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام پر بات چیت شامل تھی۔
امریکی عہدہ مشترکہ تربیت، مشقوں اور تعاون کی دیگر کوششوں کے ذریعے قریبی فوجی تعاون کی اجازت دیتا ہے۔
بائیڈن اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے غزہ کو "فوری، بلا رکاوٹ" انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا اور اپنی ملاقات کے بعد ایک بیان میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔
ملاقات کے آغاز میں بائیڈن نے کہا کہ انہیں اسرائیل اور لبنان کے درمیان تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا گیا جہاں لبنانی حکام کے مطابق پیر کو اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 492 افراد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے کہا، "میری ٹیم اپنے ہم منصبوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ہم کشیدگی کم کرنے کے لیے اس طرح سے کام کر رہے ہیں کہ لوگ محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔"
ان کے مشترکہ بیان میں سوڈان کے تنازعے میں خلیجی ریاست کی شمولیت پر بات کی گئی جس میں دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں جس کی وجہ سے دنیا کا نقل مکانی کا سب سے بڑا بحران پیدا ہوا ہے۔
انہوں نے خلائی تحقیق، صاف توانائی اور مصنوعی ذہانت پر تعاون کو مضبوط کرنے کے منصوبوں پر بھی زور دیا جہاں متحدہ عرب امارات نے امریکہ کے جغرافیائی سیاسی حریف چین کی دلچسپی کے لیے پرجوش منصوبے شروع کیے ہیں۔
نائب صدر کملا ہیرس نے متحدہ عرب امارات کے رہنما سے علیحدہ ملاقات کی لیکن گفتگو کو میڈیا کے لیے ظاہر نہیں کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس نے کہا، "نائب صدر نے سوڈان تنازعے کے بارے میں اپنی گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ان لاکھوں افراد کے لیے پریشانی کا اظہار کیا جو جنگ اور شہری آبادی کے خلاف جنگجوؤں کے مظالم کی وجہ سے بے گھر ہوئے ہیں۔"