لبنان کی سرحد پر اسرائیلی فوج کے ارکان - رائٹرز

اسرائیل لبنان کے اندر "چھوٹے پیمانے پر" کارروائیاں کرنے والا ہے: امریکی اہلکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک امریکی اہلکار نے اتوار کو ’اے بی سی‘ چینل کو کو بتایا کہ اسرائیل لبنان کے اندر "چھوٹے پیمانے پر" کارروائیاں کرنے والا ہے۔ اسرائیل سرحد پر حزب اللہ کی پوزیشنوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے"۔

ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس کی طرف سے یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ اسرائیل نے لبنان میں زمینی کارروائی کے امکان کے بارے میں بات کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس کی تصدیق کی لیکن اس نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر لبنان کے اندر زمینی کارروائی ہوسکتی ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ناگزیر ہوا زمینی آپریشن ہوگا

پیٹر لرنر نے سی این این کو بتایا کہ فوج لبنان میں ممکنہ زمینی کارروائیوں کے لیے تیاری کر رہی ہے، لیکن جب تک ضروری نہ ہو اسے انجام نہیں دے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’آئی ڈی ایف‘ کے چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی نے اس ہفتے کے شروع میں ریزرو فورسز کے ساتھ اس آپشن کے بارے میں بات کی۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اسرائیلی ترجمان نے کہا کہ "حزب اللہ کے حوالے سے اسرائیلی فوج کا بنیادی ہدف شمالی اسرائیل میں سلامتی اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تاکہ علاقہ چھوڑ کر جانے والے ساٹھ ہزار اسرائیلی اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔"

ہتھیاروں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ

حزب اللہ کے رہ نما حسن نصراللہ کی ہلاکت کے حوالے سے لرنرنے کہا کہ اسرائیلی فوج نے اسے اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ اس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ کے واحد مقصد کے لیے دو لاکھ راکٹوں، گولوں، میزائلوں اور ڈرون سمیت ہتھیاروں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ بنا رہا تھا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کو سمجھنے کے لیے 2006ء سے وسیع انٹیلی جنس مانیٹرنگ آپریشن کر رہا ہے۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر تباہ کن اسرائیلی فضائی حملے میں مارے جانے سے جماعت اور اس کے اتحادیوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں