ایران اسرائیل اور جنگ
منگل کی شام ایرانی میزائل حملے اور اسرائیل کی جانب سے جلد ہی دردناک جواب دینے کی دھمکی کے بعد ایرانی جوہری توانائی کی تنظیم نے بدھ کو اعلان کیا کہ جوہری تنصیبات کو کسی بھی حملے کے خلاف محفوظ بنا لیا گیا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی حکام نے بدھ کے اوائل میں ایرانی اہداف کی ایک متوقع فہرست کا اشارہ دیا۔
آئل یا ایٹمی تنصیبات
صہیونی حکام نے وضاحت کی ہے کہ اسرائیل ایران میں اسٹریٹجک مقامات پر حملہ کر سکتا ہے، جن میں سے ایرانی تیل یا ایٹمی تنصیبات بھی شامل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اسرائیلی ردعمل میں جنگی طیاروں کے ہوائی حملے اور خفیہ کارروائیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ یہ حملے ایسے بھی ہوسکتے ہیں جیسے جولائی میں تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو قتل کیا گیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس بار ردعمل "بہت زیادہ" ہوگا۔
ایرانی جوہری توانائی کی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے اسرائیلی دھمکیوں پر تبصرہ کیا اور کہا اسرائیل ہمیشہ ایسے الزامات لگاتا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر بھی تنقید کرتے ہوئے پوچھا کہ ہم اس پاگل شخص سے کیا امید رکھ سکتے ہیں؟