میکرون(دائیں جانب) اور نیتن یاہو(بائیں جانب) دورہ پیرس کے دوران

فرانسیسی صدر کا اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کا مطالبہ

نیتن یاھو کی صدر میکروں پر کڑی تنقید، بیان کو "شرمناک" قرار دیا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے صدر عمانویل میکروں کی جانب سے اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی روکنے کے مطالبے پر تل ابیب کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور دونوں ممالک کےدرمیان کشیدگی اور ناراضی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

یہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب ہفتے کے روز فرانسیسی صدر عمانویل میکروں کی طرف سے اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف لڑنے کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی بند کرنے کا مطالبہ سامنے آیا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نےصدر میکروں کے اس بیان کو"شرمناک" قرار دیتے ہوئے اسے ایلیسی پیلس کی "مبالغہ آرائی" قرار دیا۔

نیتن یاہو کے جواب میں ایلیسی نے زور دیا کہ "میکروں اسرائیل کی سلامتی کے لیے پرعزم ہیں، لیکن فوری جنگ بندی ضروری ہے"۔

فرانسیسی ایوان صدر نے زور دیا کہ "میکروں لبنان میں جنگ کے جاری رہنے کےسخت خلاف ہیں۔ نیتن یاہو کے بیانات مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں"۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ہفتے کے روز نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف لڑنے کے لیے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے میکرون کے مطالبے کی مذمت کی تھی۔

نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ "جب کہ اسرائیل وحشیانہ قوتوں کا مقابلہ کر رہا ہے، ایسے میں تمام مہذب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے"۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف کئی محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ "کیا فرانس ایران حزب اللہ حوثیوں، حماس اور اس کے دیگر ایجنٹوں پر ہتھیاروں کی پابندی عائد کرتا ہے؟ بالکل نہیں"۔

مذکورہ گروپوں کو تہران کی حمایت حاصل ہے اور وہ اسرائیل کے خلاف نام نہاد "مزاحمتی محور" تشکیل دیتے ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

نیتن یاہو نے کہا کہ "دہشت گردی کا یہ محور ایک ساتھ کھڑا ہے لیکن جن ممالک کو دہشت گردی کے اس محور کی مخالفت کرنی چاہیے، وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کتنی شرم کی بات ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل ان کی حمایت کے بغیر بھی جنگ جیت جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا جنگ جیتنے کے بعد بھی ان کی شرمندگی برقرار رہے گی"۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں