حزب اللہ اور پیجر حملہ (اظہار - العربیہ ڈاٹ نیٹ)

موساد نے حزب اللہ کے مواصلاتی آلات کی ہیکنگ کا منصوبہ شروع کیا تھا: نیا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی مسلح تنظیم حزب اللہ کو گذشتہ 17 ستمبر سے اسرائیل کی طرف سے تکلیف دہ حملوں کا سامنا ہے۔ ان خوفناک حملوں کا آغاز ’آپریشن پیجر‘ کے نام سے ہوئے اس پراسرار سائبرحملے ہوا جب لبنان میں حزب اللہ اور دیگر لوگوں کے پاس موجودہزاروں پیجرزڈیوائسز پھٹ گئیں۔

پیجرڈیوائسزدھماکوں کے بعد اس حوالے سے نئی اور چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

کئی اسرائیلی، عرب اور امریکی سکیورٹی حکام، سیاست دانوں اور سفارت کاروں کے ساتھ ساتھ لبنانی حکام اور حزب اللہ کے قریبی لوگوں سے حاصل کردہ معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ حزب اللہ نے گذشتہ فروری میں 5000 آلات خریدے اور انہیں اپنے درمیانے درجے کے اہلکاروں میں تقسیم کیا۔ نئے۔ یہ ڈیوائسز AR924 کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ اسرائیل کے سائبرحملوں میں زیادہ تر اسی نوعیت کی ڈیوائسز شامل ہیں۔

اس نئے تائیوانی ڈیزائن کے کئی فوائد ہیں جن میں واٹر پروف ہونا اور ایک بہت بڑی بیٹری شامل ہے جو کئی مہینوں تک چارج کیے بغیر کام کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی انٹیلی جنس کے لیے اسے ٹریک کرنا مشکل ہے۔

لیکن ان ڈیوائسز کی سب سے زیادہ خطرناک خصوصیت اس وقت تک سامنے نہیں آئی جب ان میں 17 ستمبر کو دھماکے کیے گئے۔ تب پتہ چلا کہ دو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر استعمال کی جانے والی ڈیوائسز نے ان کے صارفین کو زیادہ نقصان سے دوچار کیا۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ بمباری کا منصوبہ تل ابیب میں موساد کے ہیڈکوارٹر سے شروع ہوا تھا اور اس میں متعدد ممالک کے ایجنٹوں اور نادانستہ ساتھیوں کا ایک گروپ شامل تھا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

سنہ 2022ء سے آغاز

اس حملے نے نہ صرف حزب اللہ کی قیادت کی صفوں کو متاثر کیا بلکہ اسرائیل کو اس کے رہ نما حسن نصر اللہ کو نشانہ بنانے اور قتل کرنے میں مدد کی۔

اس حملے نے اسرائیل میں سیاسی رہ نماؤں کو اس بحث میں لگا دیا کہ حزب اللہ ایک نازک اور نمایاں طور پر کمزور پوزیشن میں آ سکتی ہے، کیونکہ پیجر حملے سے اس کے مضبوط ٹھکانوں پر پرتشدد فضائی حملے ہوں گے اور اس کے رہ نماؤں کا قتل ہو گا۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ پیجر کو دھماکے سے اڑانے کا خیال 2022ء میں شروع ہوا یعنی سات اکتوبر کو ہونے والے حملے سے ایک سال پہلے یہ سب کچھ شروع ہوا۔

موساد نے تقریباً ایک دہائی قبل لبنان میں مشکوک واکی ٹاکی ڈیوائسز متعارف کرانا شروع کی تھیں۔

نو سال

لیکن باخبر حکام کے مطابق وہ حزب اللہ نو سال سے حزب اللہ کے بارے میں محتاط طور پر کام کررہی تھی۔ وہ ان ڈیوائسز کو حزب اللہ تک پہنچانے کے لیےکام کررہی تھی تاکہ مستقبل کے بحران کی صورت میں ان ریڈیوز کو بموں میں تبدیل کرنے کا آپشن محفوظ رکھا جا سکے۔

موساد کو یہ سنہری موقع چند ماہ قبل اس وقت ملا تھا جب حزب اللہ کی جانب سے نئے ماڈل کے پیجرز کی درخواست کی گئی۔ یہ پچھلے آلات سے چھوٹے ڈیوائسز ہیں لیکن طاقتور دھماکہ خیز مواد سے لیس تھے۔

بیروت میں پیجر ڈیوائس پھٹنے کے نتیجے میں زخمی (ایجنسی فرانس پریس)

ایجنٹوں اور جعلی کمپنیوں کے ذریعے کوششوں کے بعد حزب اللہ نے چھوٹے ٹائم بموں کے بدلے اسرائیلیوں کو بالواسطہ رقم ادا کی۔ اس کے عوض اس نے ایسے ٹائم بم نما ڈیوائسزخرید کیں جنہیں اُس کے افسر اُنہیں اپنی کمروں اور ہاتھوں میں اٹھائے پھرتے تھے۔

سنہ 2023ء میں حزب اللہ کو تائیوانی برانڈ اپولو جو ایک معروف برانڈ اور عالمی تقسیم کے ساتھ پروڈکٹ لائن والے پیجرز کی بڑی مقدار کے آرڈر کی تجاویز ملنا شروع ہوئیں۔ اس کا اسرائیلی یا حتیٰ کہ یہودی مفادات سے کوئی واضح تعلق نہیں تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ تائیوان کی کمپنی اس منصوبے سے آگاہ نہیں تھی، کیونکہ سیلز پچ ایک مارکیٹنگ ایگزیکٹو کی طرف سے آئی تھی جس پر حزب اللہ کے اپولو سے تعلقات تھے۔

خاتون کا حزب اللہ سے رابطہ

انہوں نے انکشاف کیا کہ مشرق وسطیٰ میں تائیوان کی کمپنی کے سابق سیلز ایجنٹ نے اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی تھی اور اپولو برانڈڈ پیجرز کی ایک رینج فروخت کرنے کا لائسنس حاصل کیا تھا۔ 2023ء میں کسی وقت حزب اللہ کو ناہموار AR924s فروخت کرنے کی پیشکش کی گئی۔

اس تناظر میں آپریشن کی تفصیلات سے واقف ایک اسرائیلی اہلکار نے انکشاف کیا کہ "یہ خاتون ہی تھی جس نے حزب اللہ سے رابطہ کیا اور اسے نئے پیجر کے فوائد کے بارے میں بتایا، جو سائز میں بڑا ہے اور بڑی بیٹری سے لیس ہے اور پرانے ماڈل سے بہتر"۔

انہوں نے بتایا کہ حزب اللہ کو پیجر کے اس ماڈل کو خریدنے کی ترغیب دینے والی خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ اسے کیبل سے چارج کیا جا سکتا ہے اور اس کی بیٹریاں زیادہ دیر تک چلتی ہیں۔

لیکن حکام کے مطابق یہ آلات دراصل موساد کی نگرانی میں اسرائیل میں جمع کیے گئے تھے۔

اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ بیٹری کے پیچھے موساد نے احتیاط سے بم کے ایسے اجزاء نصب کیے تھے جن کا تقریباً کبھی پتہ نہیں چل سکتا تھا، یہاں تک کہ اگر ڈیوائس کو ختم کر دیا جاتا تب بھی اس دھماکہ خیز مواد کا پتا لگانا مشکل تھا۔

حکام نے کہا کہ حزب اللہ نے ان میں سے بہت سے آلات کو کھولا اور ایکس رے سے ان کا معائنہ کیا، لیکن دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔

قابل ذکر ہے کہ دیگر دھماکوں نے واکی ٹاکیز کو بھی متاثر کیا۔ پیجر اور واکی ٹاکیز دھماکوں میں تین ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے جب کہ چالیس کےقریب ہلاک ہوگئے تھے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں