کملا ہیرس اور ولادی میر پوتین

پوتین کے حوالے سے کملا ہیرس کے ’جارحانہ‘ بیانات ناقابل قبول ہیں: روسی سفارت خانہ

العربیہ ڈاٹ نیٹ - ایجنسیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ میں روسی سفارت خانے نے امریکی نائب صدر کملا ہیرس کی طرف سے کل منگل کو روسی صدر ولادیمیر پوتین کے خلاف دیے گئے جارحانہ بیانات کو ناقابل قبول قرار دیا۔

روسی سفارتخانے کی طرف سے ٹیلی گرام کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم امریکی نائب صدر (کملا) ہیرس کے روسی صدر (ولادیمیر) پوتین کے خلاف کیے گئے ناقابل قبول بیانات سےتشویش میں ہیں۔ انہیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ غیر مہذب الفاظ کا استعمال موجودہ امریکی ریاستی عہدیداروں کی عادت بن چکی ہے۔ یہ صورت حال واشنگٹن کے حکمران حلقوں کی مایوسی اور نامرادی کی طرف اشارہ کرتی ہے،کیونکہ امریکی حکمران روس کو "اسٹریٹجک شکست" سےدوچار کرنے میں ناکام رہے ہیں‘‘۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

روسی سفارت خانے کے مطابق امریکی حکام کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ روس اپنے قومی مفادات پر مبنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ یہ بیانات "پورے روسی عوام کی توہین ہیں‘‘۔

اس سے قبل ہیرس نے سیریس ایکس ایم ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صحافی باب ووڈورڈ کے اپنی نئی کتاب "دی وار" میں کیے گئے اس دعوے پر تبصرہ کیا تھا جس میں باب لکھا ہے کہ سابق ڈونلڈ ٹرمپ نے وبائی مرض کے دوران پوتین کو خفیہ طور پر "COVID-19" کے ٹیسٹنگ طریقوں کا ایک سیٹ بھیجا تھا‘‘۔ اس پر ٹرمپ نے مبینہ طور پر تنقید کی تھی۔

ٹرمپ مہم کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیفن چون نے کتاب میں موجود الزامات کی تردید کرتے ہوئےکہ "باب ووڈورڈ ک یہ تمام جھوٹی کہانیاں غلط ہیں، تاہم اور وائٹ ہاؤس نے ووڈورڈ کے الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں