ایران اور اسرائیل کے درمیان جوہری جنگ

ایران کے خلاف اسرائیل دو ہفتوں کے اندر جوابی حملہ کرے گا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تناؤ کے دوران پوری دنیا کی نظریں تہران پر تل ابیب کے جوابی حملے کے امکانات پر مرکوزہیں۔دونوں ممالک کی طرف سے آئے روز ایک دوسرے پر الزامات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔

امریکی حکام کو توقع ہے یکم اکتوبر کو ہونے والے ایرانی میزائل حملے کے جواب میں اسرائیلی ردعمل کی تیاری مکمل ہے۔ اگلے دو یا تین ہفتوں کے اندراس کا جواب آسکتا ہے۔

’سی این این‘ نے بدھ کے روز رپورٹ کیا کہ حکام کو توقع ہےکہ اسرائیل پانچ نومبرجوکہ امریکی صدارتی انتخابات کی تاریخ ہے سے سے پہلے جواب دے گا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

شدید بحث

انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیلی ردعمل کی ٹائم لائن اور سطح اسرائیلی حکومت کے اندر شدید بحث کا موضوع ہے۔ اس کا امریکی انتخابات کے وقت سے براہ راست تعلق نہیں ہے، لیکن یہ ان کو مدنظر رکھتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو امریکہ کے اندر ردعمل کے ممکنہ اثرات سے آگاہ ہو چکے ہیں۔

دو امریکی عہدیداروں نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کا خیال ہے کہ اسے اسرائیل کی طرف سے یقین دہانی ملی ہے کہ وہ ایرانی جوہری یا تیل کی تنصیبات پر حملہ نہیں کرے گا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کا خیال ہے کہ تل ابیب کو ’تھاڈ‘ میزائل ڈیفنس سسٹم بھیجنے اور اسے چلانے کے لیے تقریباً 100 فوجیوں نے ممکنہ ایرانی انتقامی کارروائیوں اور عمومی سلامتی کے مسائل کے بارے میں کچھ اسرائیلی خدشات کو دور کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ بائیڈن نے گذشتہ ہفتے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران میں تیل یا جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کی مخالفت کی تھی اور نیتن یاہو پر زور دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ردعمل اور اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتے ہیں مگر کشیدگی نہیں چاہتے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں