تابوت

ایک سال کے دوران حماس اور حزب اللہ کے کون کون سے رہنما قتل ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایک سال سے زیادہ عرصے کے دوران حماس اور اس کے اتحادی لبنانی حزب اللہ گروپ کے متعدد رہنماؤں کو شہید کردیا ہے۔ جمعرات 17 اکتوبر 2024 کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے بدھ 16 اکتوبر کو جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں حماس سربراہ یحییٰ السنوار کو بھی مار دیا ہے۔ یحییٰ السنوار کو سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر کیے گئے حملے کا منصوبہ ساز قرار دیا گیا تھا۔ گزشتہ سال کے دوران فورسز کی کارروائیوں میں شہادت پانے والے حماس اور حزب اللہ کے نمایاں رہنما درج ذیل ہیں۔

حالیہ جنگ میں قتل ہونے والے حماس کے رہنما

یحیی السنوار

یحییٰ السنوار

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ یحییٰ السنوار بدھ 16 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں ایک آپریشن کے دوران مارے گئے۔ حماس نے ابھی تک ان کی موت یا زندگی کے بارے میں کچھ اعلان نہیں کیا ہے۔ یحییٰ السنوار 31 جولائی کو ایران میں اپنے پیشرو اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد 6 اگست کو حماس کا سربراہ بنایا گیا تھا۔

اسماعیل ہنیہ

اسماعیل ہنیہ 2017 سے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ تھے کو 31 جولائی کو تہران کے دورے کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ کو کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سے مارا گیا۔ نیویارک ٹائمز نے نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ دھماکہ ایک بم کا نتیجہ تھا جو اس گیسٹ ہاؤس میں خفیہ طور پر نصب کیا گیا تھا۔ اسرائیل نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

محمد الضيف

محمد الضیف

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے کمانڈر الضیف کو انٹیلی جنس تشخیص کے بعد 13 جولائی 2023 کو غزہ میں خان یونس کے علاقے پر لڑاکا طیاروں نے حملہ کرنے کے بعد مار دیا ہے۔ محمد الضیف اس سے قبل اسرائیلیوں کے سات قاتلانہ حملوں میں بچ گئے تھے۔ حماس نے ان کی موت کی خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔ محمد الضیف کو 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملے کے ماسٹر مائنڈز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

مروان عیسیٰ

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ حماس کے نائب فوجی کمانڈر مروان عیسیٰ مارچ میں اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔ وہ الضیف اور السنور کے ساتھ اسرائیل کو مطلوب ترین فہرست میں سرفہرست افراد میں شامل تھے۔ حماس نے ان کی موت کی خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔

صالح العاروری

صالح العاروری

حماس کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری کو 2 جنوری 2024 کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں حماس کے دفتر کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے میں مارا گیا۔ صالح العاروری حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے بانی بھی تھے۔

اسرائیلی حملوں میں قتل ہونے والے حزب اللہ کے رہنما

حسن نصرالله

حسن نصراللہ

27 ستمبر کو اسرائیل نے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کو بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا۔ یہ علاقہ حزب اللہ کا گڑھ شمار ہوتا ہے۔ اس کا قتل حزب اللہ کے لیے ایک تکلیف دہ دھچکا ہے۔ حسن نصر اللہ 1992 سے گروپ کی قیادت کر رہے تھے۔

علی کرکی

حزب اللہ کے ایک سینیئر کمانڈر علی کرکی بھی اس فضائی حملے میں مارے گئے جس میں حسن نصر اللہ کی شہادت ہوئی ۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ زیر زمین بنکر پر حملے میں حزب اللہ کے مختلف کیڈرز کے 20 سے زائد ارکان مارے گئے تھے۔

هاشم صفي الدين

ہاشم صفی الدین

اسرائیلی وزیر دفاع گیلنٹ نے 8 اکتوبر کو بتایا کہ حسن نصر اللہ کا جانشین سمجھے جانے والے ہاشم صفی الدین کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں حزب اللہ کے مقتول رہنما حسن نصر اللہ کے دو جانشین مارے گئے ہیں۔ ایک ہاشم صفی الدین اور دوسرے کی شناخت انہوں نے ظاہر نہیں کی۔ حزب اللہ نے ہاشم صفی الدین کی موت اور زندگی کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

نبیل قاووق

نبیل قاووق حزب اللہ کے ایک سینئر سیکورٹی عہدیدار تھے جو 28 ستمبر 2024 کو اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔

ابراہیم قبیسی

لبنان میں دو سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ 24 ستمبر 2024 کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے میزائل سسٹم کے کمانڈر اور سینئر رکن ابراہیم قبیسی جاں بحق ہوگئے ہیں۔

ابراہیم عقیل

20 ستمبر 2024 کو لبنانی دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر ایک اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے آپریشنز کمانڈر ابراہیم عقیل کو مار دیا گیا۔ ابراہیم عقیل گروپ کے اعلیٰ ترین فوجی ادارے کے رکن تھے۔ امریکہ نے اس پر اپریل 1983 میں بیروت میں امریکی سفارت خانے پر ٹرک بموں سے ہونے والے بم حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اس بم حملے میں 63 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ چھ ماہ بعد امریکی میرین کی بیرکوں پر بمباری کی گئی تھی اور اس میں 241 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام بھی ابراہیم عقیل پر تھا۔

احمد وھبی

2024 کے اوائل تک حزب اللہ کی ایلیٹ فورس رضوان فورس کے فوجی آپریشنز کی نگرانی کرنے والے سینئر کمانڈر احمد وھبی 20 ستمبر 2024 کو بیروت کے جنوبی مضافات میں ابراہیم عقیل سمیت متعدد سینئر کمانڈروں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوگئے۔

فواد شکر

فواد شکر

30 جولائی کو بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی حملے میں گروپ کے سینئر فوجی کمانڈر فواد شکر جاں بحق ہوگئے تھے۔ فواد شُکر چار دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ تک ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے قائم گروپ حزب اللہ کی اہم عسکری شخصیات میں سے ایک رہے۔

امریکہ نے 2015 میں فواد شکر پر پابندیاں عائد کی تھیں اور ان پر 1983 میں بیروت میں امریکی میرین بیرکوں پر ہونے والے بم دھماکے میں اہم کردار ادا کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اس حملے میں 241 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

محمد ناصر

محمد ناصر 3 جولائی 2024 کو ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ ۔ اسرائیل نے ان کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنوب مغربی لبنان سے اسرائیل پر فائرنگ کرنے والے یونٹ کی قیادت کر رہے تھے۔

طالب عبداللہ

حزب اللہ کے سینئر فیلڈ کمانڈر طالب عبداللہ 12 جون 2024 کو ایک چھاپہ مار کارروائی میں مارے گئے تھے جس کی ذمہ داری اسرائیل نے قبول کی تھی ۔ لبنان کے سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ وہ مرکزی علاقے میں حزب اللہ کے کمانڈر تھے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں