إيران إسرائيل أميركا نووي تعبيرية

بائیڈن کے بیان پر ردعمل، ایران: اسرائیل کے ممکنہ حملے سے آگاہ ہر کسی کا محاسبہ کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دھمکی دی ہے کہ جو کوئی بھی یہ جانتا ہے کہ "اسرائیل ایران پر کیسے اور کب حملہ کرے گا"، اسے حساب دینا ہو گا۔ عراقچی کا اشارہ امریکا کی جانب تھا۔

ہفتے کے روز "ایکس" پلیٹ فارم پر جاری بیان میں عراقچی نے کہا کہ "جو کوئی بھی یہ جانتا یا سمجھتا ہے کہ اسرائیل ایران پر کیسے اور کب حملہ کرے گا ... اور اس طرح کی حماقت کے لیے ذرائع اور حمایت فراہم کرے گا ... تو اصولی بات ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان کا ذمے دار بھی ٹھہرے گا"۔

اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعے کے روز تصدیق کی تھی کہ وہ ایران کے میزائل حملے کے جواب میں اسرائیل کے رد عمل کا طریقہ کار اور تاریخ جانتے ہیں۔ تاہم انھوں نے تفصیل میں جانے سے گریز کیا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

بائیڈن نے یہ بیان جرمنی کے دار الحکومت برلن کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے ملاقات میں دیا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا لبنان میں فائر بندی تک پہنچنے کے لیے کام کرنے کا امکان ہے تاہم غزہ میں یہ زیادہ دشوار ہو گا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ادھر اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہین اسرائیلی ویب سائٹ "ویلا" کو بیان میں کہہ چکے ہیں کہ ایران کی جانب سے تل ابیب پر میزائل داغنے کے جواب میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ کوہین کے مطابق اسرائیل ثابت کر چکا ہے کہ وہ اسے نقصان پہنچانے والی کسی بھی طاقت کو بلا استثنا روکنے کی قدرت رکھتا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے اب تک ہتھیاروں اور انٹیلی جنس سے متعلق اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا 10% بھی استعمال نہیں کیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں