امریکی صدر کے طور پر کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کسی ایک کے انتخاب میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو ممکنہ طور پر امید کر رہے ہوں گے کہ وہ شخص فتح حاصل کرے جس کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیں اور جس نے اسرائیل کو متعدد سفارتی فتوحات دلوائی ہیں۔ (اے ایف پی)

نیتن یاہو امریکی صدارتی دوڑ میں ٹرمپ کی فتح کے لیے پُر امید ہیں: تجزیہ کار

"ریپبلکنز کے ساتھ ان کا تجربہ بہت اچھا ہے، ڈیموکریٹس زیادہ سخت ہیں": ابیب بشینسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جیسا کہ امریکی صدارتی انتخابات اواخر کی طرف بڑھ رہے ہیں تو اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو ممکنہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کی امید کر رہے ہیں۔

بطورِ صدر ٹرمپ کا آخری دور نیتن یاہو کے لیے اچھا تھا اور پانچ نومبر کو ہونے والے ووٹ کے حوالے سے سابق صدر نے اپنی شرقِ اوسط کی پالیسی پر ملے جلے پیغامات بھیجے ہیں۔

نیتن یاہو کو ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کرنے کی ترغیب دینے سے لے کر - جس سے اسرائیل نے ہفتے کے روز اپنے حملوں میں گریز کیا تھا - اسرائیلی رہنما پر تنقید کرنے تک ان کے تبصروں میں مختلف باتیں شامل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ "سات اکتوبر کا حملہ کبھی نہ ہوتا، اگر میں صدر ہوتا" اور یہ کہ وہ اسرائیل پر جنگیں ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔

اس کے باوجود ٹرمپ کی اتنخابی مہم کے نعرے "امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں" کے ساتھ ساتھ یہی غیر واضح پالیسیاں ہیں جن کے بارے میں تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ نیتن یاہو پُر امید ہیں۔

ریپبلکن صدر کے طور پر ایک تنہائی پسند ٹرمپ نیتن یاہو کو غزہ اور لبنان میں جاری تنازعات کو فریقین کی باہمی رضامندی سے حل کرنے کے لیے مزید آزادی دے سکتے ہیں۔

یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر گڈیئن راحت نے اے ایف پی کو بتایا، "نیتن یاہو کے لیے ایک اہم سنگِ میل امریکی انتخابات ہیں۔ وہ ٹرمپ کی فتح کے لیے دعا کر رہے ہیں جس سے ان کے خیال میں انہیں نقل و حرکت کی بہت زیادہ آزادی ملے گی اور جو وہ کرنا چاہتے ہیں، کر سکیں گے۔"

ایک سیاسی مبصر اور نیتن یاہو کے سابق چیف آف سٹاف ابیب بشینسکی نے بھی اسی طرح کہا: "ریپبلکنز کے ساتھ ان کا تجربہ بہت اچھا ہے۔۔ جس کے برعکس ڈیموکریٹس ان پر زیادہ سخت ہیں۔"

اسرائیل نواز پیش رفت

وزیرِ اعظم کے طور پر نیتن یاہو نے 17 سالوں میں صرف ایک ریپبلکن رہنما ٹرمپ کے مدِ مقابل خدمات انجام دیں۔

ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران کئی ایسے اقدامات کیے جن میں اسرائیل کے فلسطینیوں اور وسیع خطے کے ساتھ تنازعات کے بارے میں بعض دیرینہ امریکی پالیسیوں سے مکمل انحراف کیا گیا۔ اس سے نیتن یاہو کو اندرونِ ملک معاملات میں مدد ملی۔

ریپبلکن صدر نے امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کیا جسے اسرائیل اپنا غیر منقسم دارالحکومت قرار دیتا ہے، مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کیا اور تین عرب ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کی نگرانی کی۔

ٹرمپ اسرائیل کے قدیم دشمن ایران کے ساتھ تاریخی جوہری معاہدے سے بھی دستبردار ہو گئے اور اسلامی جمہوریہ پر سخت اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں۔

دریں اثنا اسرائیل کے لیے اپنی "آہن پوش حمایت" پر اصرار کرنے کے باوجود صدر جو بائیڈن کے نیتن یاہو سے طویل عرصے سے تعلقات سرد رہے ہیں۔

ٹرمپ کے برعکس بائیڈن نے نیتن یاہو کو ایران کی تیل کی پیداوار کی اور جوہری تنصیبات پر حملے کے خلاف خبردار کیا تھا۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان قریبی ذاتی تعلقات بھی ہیں اور سابق امریکی صدر نے اس ہفتے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ساتھ مسلسل فون پر رابطہ برقرار رکھنے کے بارے میں بات کی۔

ٹرمپ نے جارجیا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "ہمارے درمیان بہت اچھے تعلقات ہیں۔ ہم ان کے ساتھ بہت قریب سے کام کرنے والے ہیں۔"

بشینسکی نے کہا کہ یہ مثبت پہلو کسی بھی خدشات سے کہیں بڑھ کر ہو گا۔ "میرے خیال میں نیتن یاہو ٹرمپ کے غیر متوقع مزاج کا خطرہ مول لینے کو تیار ہوں گے۔"

اسرائیلی عوام میں ٹرمپ کی مقبولیت

ٹرمپ نہ صرف نیتن یاہو بلکہ اسرائیلی عوام میں بھی مقبول ہیں۔

اسرائیل کے علاقائی خارجہ پالیسیوں کے ادارے Mitvim کے ستمبر میں کروائے گئے ایک رائے عامہ کے جائزے میں کہا گیا کہ 68 فیصد اسرائیلیوں کے نزدیک ٹرمپ ایسے امیدوار ہیں جو اسرائیل کے مفادات کی بہترین خدمت کرے گا۔

صرف 14 فیصد نے نائب صدر کملا ہیریس کو منتخب کیا حالانکہ وہ بارہا اسرائیل اور اس کے حقِ دفاع کی حمایت کرتی رہی ہیں۔

امریکہ میں اسرائیل کے سابق سفارت کار اور Mitvim کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن نداو تمیر نے کہا، "امریکہ سے باہر کسی بھی آزاد خیال جمہوریت سے زیادہ اسرائیل میں ٹرمپ کی مقبولیت ہیرس سے زیادہ ہے۔"

اگرچہ تمیر کے مطابق ٹرمپ کی نئی انتظامیہ بعض معاملات میں حیرت کا باعث ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، "سابق صدر نے خود کو تیزی سے ریپبلکنز کے قریب کر لیا ہے "جو تنہائی پسند ہیں اور نہیں چاہتے کہ امریکہ آزاد دنیا یا بین الاقوامی اتحادوں کا رہنما ہو۔"

فلسطینیوں کے لیے کوئی بہتر انتخاب نہیں

ایک فلسطینی ماہرِ سیاسیات اور رائے شماری کرنے والے خلیل شیکاکی نے کہا، فلسطینیوں میں کسی بھی امیدوار کے لیے بہت کم جوش و خروش ہے۔

فلسطینی دونوں امیدواروں پر عدم اعتماد کرتے ہیں اور ان کے نزدیک دوںوں میں بہت کم فرق ہے۔

حماس کے ایک عہدیدار طاہر النونو نے اے ایف پی کو بتایا، انہیں یقین ہے کہ اسرائیل کے لیے "یکے بعد دیگرے آنے والی امریکی انتظامیہ متعصب رہی ہیں"۔

سڑک پر موجود فلسطینیوں نے کہا، کوئی بھی جیتے، ان کے علاقوں میں زندگی بہتر نہیں ہو گی۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں بیرزیت یونیورسٹی کے 21 سالہ طالب علم لین باسم نے کہا، مجھے نہیں لگتا کہ امریکی انتخابات کا ہماری سیاسی حقیقت پر کوئی مثبت اثر ہو گا۔

ایک 42 سالہ ساؤنڈ انجینئر حسن انور نے بھی کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ دونوں میں کوئی فرق ہے "کیونکہ امریکی پالیسی اسرائیل کی حمایت اور پشت پناہی کے لحاظ سے پوری طرح واضح ہے۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں