امریکی صدر جوبائیڈن(دائیں جانب) ایلون مسک(درمیان میں) اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(بائیں جانب)

امریکی الیکشن

ووٹروں کے لیے ایلون مسک کے تحائف بالکل نا مناسب ہیں : امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹیکنالوجی کی صنعت کی ارب پتی شخصیت ایلون مسک کی جانب سے امریکی انتخابات سے قبل سوئنگ ریاستوں کے رجسٹرڈ ووٹروں میں روزانہ کی بنیاد پر دس لاکھ ڈالر کی رقم بطور تحفہ دیے جانے پر تنقید کی ہے۔ بائیڈن کے مطابق یہ "بالکل نا مناسب ہے"۔

امریکی صدر کا یہ موقف ڈیلاویئر ریاست میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں سامنے آیا۔

فلاڈلفیا کاؤنٹی کے پبلک پراسیکیوٹر لیری کرسنر نے جو خود ڈیموکریٹ ہیں، پیر کے روز ارب پتی ایلون مسک اور انعامی رقم تقسیم کرنے والی ان کی تنظیم PAC (پیک) کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اسی طرح امریکی وزارت انصاف نے 'پیک' کو بھیجے گئے خط میں خبردار کیا ہے کہ یہ انعام (دس لاکھ ڈالر) وفاقی قوانین کی خلاف ورزی شمار ہو سکتا ہے۔

انتباہات کے باوجود 'پیک' تنظیم نے انعامی رقم کے چیک تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

ابھی تک 'پیک' تنظیم سوئنگ ریاستوں میں رجسٹرڈ ووٹروں کو دس لاکھ ڈالر کے 9 چیک دے چکی ہے۔

ایلون ماسک نے جولائی میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ ان کی تنظیم PAC نے سوئنگ ریاستوں میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کی کوششوں میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں