الجزائر: ایک برقع پوش
برقعہ پوش شخص یونیورسٹی کے گرلزہاسٹل میں گھس گیا، طالبات میں خوف وہراس
الجزائرکی ایک یونیورسٹی میں برقعہ پوش شخص کی طالبات کے ہاسٹل میں دراندازی کے واقعے نے طالبات میں خوف وہراس کی لہر دوڑا دی۔
یہ واقعہ الجزائر کے دارالحکومت سے جنوب مغرب میں 221 کلو میٹر دور تسمسیک‘ یونیورسٹی میں اس وقت پیش آیا جب ایک برقعہ اڑھے شخص طالبات کے ہاسٹل میں گھس گیا۔
یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی طرف سے سامنے آنے والی تفصیلات جس کی بعد ازاں ہاسٹل کی انتظامیہ نے تصدیق کی بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی رات تقریباً دس بجے کے بعد اور منگل کی صبح چار بجےسے قبل پیش آیا، جب سکیورٹی اہلکار رہائش گاہ کے اندر یونیورسٹی کی طالبہ کے بھیس میں ایک عجیب و غریب شخص کو دیکھا گیا۔
چاقو سے مزاحمت
سکیورٹی اہلکاروں نے اس شخص کو دیکھا جو ایک بڑی چادر اوڑھےاور ایک بیگ اٹھائے ہوئے تھا۔ جب وہ اس کے پیچھے گئے اور اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی تو اس نے چاقو سے ان کے ساتھ مزاحمت کی۔
الجزائر: ایک برقعہ پوش
ایک سکیورٹی اہلکار کو سینے اور کمر میں زخم بھی آئے جس کے بعد اسے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ جہاں اس کی فوری سرجری کی گئی۔
جبکہ سوشل میڈیا کے صارفین نے اس واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے گھٹیا مقاصد کے لیے مذہبی لباس کے استعمال کی مذمت کی۔
بعض صارفین نے "طالبات کی شناخت کا تعین کرنے کے لیے دیگر طریقوں فنگر پرنٹ یا آئی ڈیٹیکٹر کے استعمال پر زور دیا۔
کچھ صارفین نے کہا کہ طالبات کو یونیورسٹی میں آمد ورفت کے وقت چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت دینی چاہیے تاکہ ان کی پہچان ہوسکے اور ساتھ ہی کسی مشتبہ شخص کا پتا چل سکے۔