People holding Palestinian flags take part in a demonstration outside the Lannemezan prison to call for the release of Lebanese national Georges Ibrahim Abdallah on October 26, 2024. (AFP)
لبنانی جنگجو کی چالیس سال بعد مشروط رہائی کا عدالتی حکم
فرانس کی عدالت نے جمعہ کے روز فلسطینیوں کے حامی لبنانی جنگجو ابراہیم عبداللہ کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ دو غیر ملکی سفارتکاروں کو قتل کرنے کے الزام میں چالیس سال سزائے قید سنائی گئی تھی۔
لبنانی جنگجو 1984 سے قید ہیں۔ جبکہ انہیں سزا 1987 میں سنائی گئی تھی۔ دو سفارت کاروں کے قتل کا واقعہ 1982 میں ہوا تھا۔ تاہم اب چالیس قید میں رہنے کے بعد انہیں امکانی طور پر 6 دسمبر کو رہا کیا جائے گا۔ جس کے بعد انہیں فرانس سے جانا ہوگا۔
تاہم فرانس کے انسداد دہشت گردی سے متعلق پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ وہ اس عدالتی فیصلے کو چیلنج بھی کر سکتے ہیں۔
واضح رہے فرانس کی عدالت کی طرف سے رہائی کے حق میں یہ فیصلہ مشروط ہے کہ وہ آئندہ کبھی فرانس کی سرزمین پر نظر نہیں آئیں گے۔
عبداللہ نامی سابق گوریلا فائٹر ابراہیم عبداللہ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ فلسطینی جماعت پاپولر فرنٹ آف فلسطین سے متعلق تھے۔ دو سفارتکاروں میں امریکی فوجی اتاشی چارلس رابرٹ رے اور اسرائیلی سفارتکار یعقوب برسمانٹوف شامل تھے۔
73 سالہ ابراہیم عبداللہ کا مؤقف ہے کہ وہ ایک جنگجو ہیں اور فلسطینی آزادی کے لیے جائز جدوجہد کے حامی ہیں، وہ ہرگز مجرم نہیں ہیں۔