امریکی خصوصی ایلیچی آموس ہوچسٹین۔ (فائل فوٹو: اے پی)

امریکی ایلچی آموس ہوچسٹین لبنان پہنچ گئے

لبنانی حکومت اور حزب اللہ دونوں امریکہ کی جنگ بندی تجویز پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ امریکی ایلچی اموس ہوچسٹین مسلح گروپ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے منگل کے روز بیروت پہنچ گئے۔ ان کی آمد واشنگٹن کی تیار کردہ ایک مسودہ تجویز کو حزب اللہ کی منظوری ملنے کے چند گھنٹے بعد ہوئی۔

یہ دورہ امریکہ کے زیرِ قیادت سفارت کاری میں پیشرفت کی نشاندہی کرتا ہے جس کا مقصد اس تنازعہ کو ختم کرنا ہے جو ستمبر کے اواخر میں ہمہ گیر جنگ میں تبدیل ہو گیا تھا جب اسرائیل نے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے خلاف ایک بڑا حملہ کیا۔

پارلیمان کے سپیکر نبیہ برّی کے معاون علی حسن خلیل نے پیر کو رائٹرز کو بتایا کہ لبنانی حکومت اور حزب اللہ دونوں نے امریکی جنگ بندی کی تجویز پر اتفاق کیا جو گذشتہ ہفتے تحریری طور پر پیش کی گئی تھی اور مواد پر کچھ تبصرے کیے تھے۔

اسرائیل کی جانب سے اس پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا گیا۔

حزب اللہ نے جنگ بندی مذاکرات کے لیے اپنے دیرینہ اتحادی بیری کی توثیق کی لیکن اس نے اور اسرائیل دونوں نے لڑائی میں شدت پیدا کی ہے جبکہ سیاسی کوششیں اس دوران جاری ہیں۔

مذاکرات سے واقف ایک سفارت کار نے خبردار کیا کہ تفصیلات کو بہتر اور ہموار کرنے کی بدستور ضرورت ہے اور اس بنا پر حتمی معاہدہ مزید کچھ عرصے تک رکا رہ سکتا ہے۔

خلیل نے کہا، اسرائیل بیروت اور حزب اللہ کے زیرِ قبضہ جنوبی مضافات پر بمباری میں اضافے کے ہمراہ مذاکرات کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ "اس سے ہماری پوزیشن متاثر نہیں ہوگی،" انہوں نے کہا۔

لبنان نے مسودے پر جو نوٹس بنائے، انہوں نے ان کی تفصیل بتانے سے تو انکار کر دیا لیکن کہا کہ یہ "مثبت ماحول میں" اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کے مطابق پیش کیا گیا جس سے 2006 میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان آخری جنگ ختم ہو گئی تھی۔

اس کی شرائط تقاضہ کرتی ہیں کہ لبنان-اسرائیل سرحد اور دریائے لطانی کے درمیانی علاقے میں حزب اللہ کی مسلح موجودگی نہ ہو جو سرحد کے شمال میں تقریباً 30 کلومیٹر (20 میل) طویل ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں