نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو
کینیڈا کے وزیرِ اعظم ٹروڈو کے ساتھ سرحد، تجارت پر تبادلۂ خیال کیا: ٹرمپ
تجارتی محصولات میں اضافے اور ممکنہ نئی برکس کرنسی نہ لانے پر زور
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ تجارتی جنگ کے خدشے کے درمیان کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کے ساتھ "انتہائی نتیجہ خیز" ملاقات میں انہوں نے سرحد، تجارت اور توانائی کے موضوع پر تبادلۂ خیال کیا۔
ٹروڈو نے جمعہ کی شام فلوریڈا کا غیر اعلانیہ دورہ کیا اور ٹرمپ کے ساتھ ان کی مار-ا-لاگو رہائش گاہ پر عشائیے میں شرکت کی۔ ریپبلکن ٹرمپ نے جنوری میں صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد کینیڈا اور میکسیکو کی درآمدات پر 25 فیصد محصولات عائد کرنے کا عہد کیا جس کے چند دن بعد یہ ملاقات ہوئی۔
اس عہد نے امریکہ اور اس کے دو بڑے تجارتی شراکت داروں کے درمیان تجارتی جنگ کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے اس ہفتے خبردار کیا کہ ٹرمپ کے ٹیرف منصوبے سے دونوں ممالک کے لیے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور ممکنہ جوابی کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا، "ہم نے کئی اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا جن سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہو گی مثلاً فینٹینیل اور منشیات کا بحران جس نے غیر قانونی ترکِ وطن کے نتیجے میں کئی زندگیاں تباہ کر دی ہیں، منصفانہ تجارتی سودے جو امریکی کارکنوں کو خطرے میں نہ ڈالیں اور امریکہ کا کینیڈا کے ساتھ بہت زیادہ تجارتی خسارہ۔"
انہوں نے مزید کہا، "ٹروڈو نے امریکی خاندانوں کی اس خوفناک تباہی کو ختم کرنے کے لیے ہمارے ساتھ کام کرنے کا عہد کیا ہے۔"
ٹروڈو نے ہفتے کے روز ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ دونوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے لکھا، "گذشتہ رات کے کھانے کے لیے شکریہ، صدر ٹرمپ۔ میں اس کام کا منتظر ہوں جو ہم مل کر دوبارہ کر سکتے ہیںَ۔"
وزیرِ اعظم کے دفتر نے ملاقات کے بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
کینیڈین حکومت کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ یہ تین گھنٹے تک جاری رہنے والا ایک مثبت عشائیہ تھا اور وسیع موضوعات پر گفتگو کے ساتھ ہوا۔
جمعہ کو ٹروڈو نے کینیڈا میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا، وہ ممکنہ محصولات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، "ڈونلڈ ٹرمپ جب اس طرح کے بیانات دیتے ہیں تو وہ ان پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔"
کئی ماہرینِ اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کے درآمدات پر محصولات عائد کرنے کے منصوبے سے امریکی صارفین کے لیے اخراجات بڑھیں گے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ تجارتی شراکت داروں پر محصولات سے امریکی تیار کنندگان کے تحفظ اور ملکی سطح پر ملازمتوں میں اضافے میں مدد ملے گی۔
ایک الگ پوسٹ میں ٹرمپ نے نام نہاد برکس ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ نئی کرنسی نہ بنانے یا امریکی ڈالر پر کسی اور کرنسی کی حمایت نہ کرنے کا عہد کریں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایسا کرنے کی صورت میں ان ممالک کو "100 فیصد محصولات" کا سامنا کرنا ہو گا۔
برکس سے مراد معیشتوں کے بین الحکومتی گروپ کے اصل ارکان ہیں: برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ۔
اس میں ایران، مصر، ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ نے لکھا، "ہمیں ان ممالک سے اس عہد کی ضرورت ہے کہ وہ نہ تو کوئی نئی برکس کرنسی لائیں گے اور نہ ہی طاقتور امریکی ڈالر کی جگہ کسی دوسری کرنسی کی حمایت کریں گے ورنہ انہیں 100 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا ہو گا اور وہ امریکہ جیسی عظیم معیشت میں اپنی مصنوعات کی فروخت کو الوداع کہہ دینے کی توقع رکھیں۔"