اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو: رائیٹرز
یمن میں اسرائیل اور حوثی باغیوں کے درمیان اپنے عروج پر پہنچنے والی کشیدگی کے تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے نئی وارننگ جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی اسرائیل کو نقصان پہنچاتا ہے اسے بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ نیتن یاہو نے ’’ ایکس‘‘ پر اپنی ایک ویڈیو تقریر میں کہا حوثی اپنا سبق مشکل سے سیکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکیوں کو احساس ہے کہ اسرائیل حوثیوں کے خلاف ہر کسی کی طرف سے کارروائی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ حوثی برائی کے محور کا آخری بازو ہیں"۔ وہ ایرانی حمایت یافتہ "مزاحمت کے محور" کا حوالہ دے رہے تھے۔ اس محور میں لبنان کی حزب اللہ، غزہ میں حماس اور عراق میں کچھ مسلح دھڑے بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے بھی یمنی گروپ کو ایک ایسی ہی دھمکی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا لمبا ہاتھ ان تک پہنچ جائے گا۔ جو بھی فریق اسرائیل کو نقصان پہنچائے گا اسے سات گنا جواب دیا جائے گا۔ یہ بیانات اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی جنگجوؤں نے صنعا اور حدیدہ کے مختلف علاقوں پر 16 حملے کیے ہیں۔ اسرائیل نے اپنے حملوں میں پاور پلانٹس اور راس عیسیٰ اور السلف کی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں نے ان دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے حملے انہیں غزہ کی پٹی کی حمایت جاری رکھنے سے نہیں روکیں گے۔ واضح رہے سات اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسی دن اسرائیلی فوج نے غزہ پر حملے شروع کردیے تھے۔ 14 ماہ سے جاری اس قتل عام میں 45 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا ہے۔