اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیاع
حوثی حملوں کے جواب میں براہ راست ایران کو نشانہ بنایا جائے : سربراہ موساد
اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت" کے انکشاف کے مطابق موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیاع نے سفارش کی ہے کہ یمن سے اسرائیل پر میزائل حملوں کے جواب میں حوثیوں کے بجائے ایران پر حملہ کیا جائے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 13 کے مطابق برنیاع نے سیکورٹی کے حوالے سے بات چیت میں حالیہ دنوں میں اسرائیل پر حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں یہ بیان دیا۔ موساد کے سربراہ کے مطابق محض صنعاء میں کارروائی پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ایران پر براہ راست حملہ کیا جانا چاہیے۔
چینل کی رپورٹ کے مطابق برنیاع کا کہنا تھا کہ "ہمیں سر کو کچلنا چاہیے، اگر ہم نے صرف حوثیوں کو نشانہ بنایا تو یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ہم انھیں روکنے میں کامیاب ہو جائیں گے"۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹوں میں واضح کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو حکومت آئندہ ماہ ٹرمپ کے سرکاری طور پر عہدہ سنبھالنے کی منتظر ہے جس کے بعد وہ طے کرے گی کہ ایران کے ساتھ کس طرح نمٹنا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز کہا کہ اسرائیل یمن میں حوثی ملیشیا کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔ انھوں نے ملیشیا پر الزام عائد کیا کہ وہ عالمی جہاز رانی اور بین الاقوامی نظام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
اسرائیلی طیاروں نے جمعرات کے روز یمن میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بندر گاہوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اسرائیلی ذمے داران کے مطابق یہ ان سیکڑوں حملوں کا جواب ہے جو 14 ماہ قبل غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے حوثیوں کی جانب سے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔
ادھر امریکی فوج نے ہفتے کے روز بتایا تھا کہ اس نے یمنی دار الحکومت صنعاء میں حوثیوں کے زیر انتظام میزائلوں کے ڈپو اور کمانڈ اینڈ کنٹرول تنصیب پر فضائی حملے کیے۔
نیتن یاہو یہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل، امریکا کے ساتھ حرکت میں آئے گا۔
یاد رہے کہ جنوبی لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ کی فورس کے خلاف اسرائیلی فوج کی مہم اور شامی فوج کے زیادہ تر تزویراتی ہتھیاروں کی تباہی کے بعد اسرائیل کے اندر وزیر اعظم نیتن یاہو کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔