حوثی ارکان
اسرائیل نے یورپ میں اپنے سفارتی مشنوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ یمن میں حوثی گروپ کو ایک "دہشت گرد تنظیم" کے طور پر درجہ بندی کرنے کی کوشش کریں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے ایک بیان میں کہا کہ حوثی نہ صرف اسرائیل بلکہ خطے اور پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔ سب سے پہلا اور سب سے اہم کام جو ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ انھیں دہشت گرد تنظیم قرار دلایا جائے۔
یہ بیان اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کی جانب سے اتوار کو حوثی رہنماؤں کو ان کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے اور ان کے رہنماؤں کو ختم کرنے دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کا حوالہ بھی دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم حوثیوں پر سخت حملہ کریں گے۔ ان کے سٹریٹجک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائیں گے۔ ان کے رہنماؤں کے سر قلم کریں گے جیسا کہ ہم نے تہران، غزہ اور لبنان میں ھنیہ ، سنوار اور نصر اللہ کے ساتھ کیا ہے، ایسا ہی ہم الحدیدہ اور صنعا میں کریں گے۔
عالمی دہشت گرد گروہ
گزشتہ جنوری میں امریکی محکمہ خارجہ نے حوثی گروپ ’’انصار اللہ‘‘کو عالمی دہشت گرد گروپ قرار دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے انسانی بنیادوں پر تین سال قبل اس گروپ کو اس فہرست سے نکال دیا تھا۔ نیوزی لینڈ اور کینیڈا نے بھی حال ہی میں حوثی گروپ کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہے جس کا یمنی حکومت نے خیر مقدم کیا ہے۔
گزشتہ سال 7 اکتوبر 2023 کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے حوثیوں نے اسرائیل کی طرف درجنوں میزائل اور ڈمرون حملے کیے ہیں ۔ بحیرہ احمر میں غزہ کی حمایت میں درجنوں کارگو جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال تھا کہ لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ ساتھ حماس کی نمایاں صلاحیتوں کو ختم کرنے کے بعد اسرائیل حوثیوں پر حملہ کرنے کے لیے زیادہ تیار اور پرعزم ہو گیا ہے۔