لبنان کے نگراں وزیر اعظم نجیب میقاتی (رائٹرز فائل)
لبنان کے نگراں وزیر اعظم نجیب میقاتی نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی بار بار کی جانے والی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بندکرنے اور سرحدی علاقوں سے اسرائیلی فوج کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔
نجیب میقاتی نے لبنانی حکومت کے ایک اجلاس کے دوران مزید کہا کہ "لبنان مفاہمت کی شرائط پر قائم ہے جب کہ اسرائیل خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ ناقابل قبول ہے"۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز ان کے جنوبی لبنان کے دورے نے انہیں اندازہ ہوا کہ جنوبی علاقوں میں لوگوں کی اپنے گھروں کو واپسی کے لیے استحکام اور امن کی اشد ضرورت ہے۔
اس اجلاس میں لبنانی فوج کے کمانڈر جنرل جوزف عون اور جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی نگرانی کرنے والی تکنیکی کمیٹی کے چیئرمین امریکی جنرل جیسپر جیفرز،کمیٹی کے رکن فرانسیسی جنرل گیلوم پونچن، لبنانی فوج میں جنوبی لیطانی سیکٹر کے بریگیڈیئر جنرل ایڈگر لونڈس اور جنوب میں کام کرنے والی بین الاقوامی افواج کے کمانڈر جنرل ارالڈو لازارو موجود تھے۔
میٹنگ کے دوران میقاتی نے کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ "اسرائیل پر جنگ بندی کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔ انہوں نے لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کے فوری انخلا پر زور دیتے ہوئے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یہ کمیٹی فوج کے ساتھ پے در پے ملاقاتوں میں اٹھائے گئے مسائل پر بات چیت جاری رکھے گی اور نئے سال کے آغاز پر اپنا باقاعدہ اجلاس منعقد کرے گی۔
متعلقہ سیاق و سباق میں اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے لیے مختلف اقسام کے 84,000 سے زیادہ ہتھیار ضبط کیے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر گھروں کے اندر، آگے اور نیچے سویلین علاقوں سے پائےگئے ہیں۔