یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر اسرائیلی حملوں سے صنعا کے ہوائی اڈے کے ٹاور کو نشانہ بنایا گیا – اے ایف پی
اسرائیلی فوج نے یمن سے آنے والا ایک اور میزائل فضا میں تباہ کر دیا
اسرائیلی فوج نے آج جمعے کی صبح بتایا ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے یمن سے داغا جانے والا ایک میزائل تباہ کر دیا۔ فوج کے مطابق میزائل کو اسرائیلی ارضی میں داخل ہونے سے پہلے مار گرایا گیا۔ میزائل کا ملبہ گرنے کے امکان کے سبب وسطی اسرائیل میں کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
اسرائیلی اخبار "ٹائمز آف اسرائیل" کے مطابق یمن کی جانب سے میزائل آنے کی وجہ سے فضائی انتباہ کا اعلان کیا گیا جس کے بعد لوگوں نے افراتفری میں پناہ گاہوں کا رخ کیا۔ اس دوران میں بھگدڑ مچنے سے 18 اسرائیلی شہری زخمی ہو گئے۔
ادھر میزائل حملے کے خطرے کے سبب تل ابیب میں بن گوریون ہوائی اڈا بند کر دیا گیا اور تقریبا 30 منٹ تک پروزاوں کی آمد و رفت روک دی گئی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اس سے قبل جمعرات کے روز یمن میں صنعاء اور الحدیدہ پر اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملوں میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 40 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ العربیہ کے ذرائع کے مطابق ان حملوں میں اسرائیل کے 25 لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا۔ اس دوران میں صنعاء کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں تقریبا 20 اہل کار اور شہری زخمی ہو گئے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ٹیڈروس ادہانوم نے بتایا کہ جس وقت ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تو وہ جہاز پر سوار ہونے والے تھے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل ابھی تک یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا کے خلاف مہم کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔
نیتن یاہو نے باور کرایا کہ اسرائیل ایران کے اس بازو کو کاٹنے کا عمل مکمل ہونے تک اپنی مہم جاری رکھے گا۔
ادھر اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل حوثیوں کی تمام قیادت کا تعاقب کرے گا ... اور اسرائیل کے لمبے ہاتھوں سے کوئی بچ کر نہیں نکل سے گا۔ ایک برس سے زیادہ عرصہ پہلے غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے یمن میں حوثی ملیشیا میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے اسرائیل کو نشانہ بنا رہا ہے۔