روہنگیا مسلمان 14 ستمبر 2017 کو میانمار سے ایک کشتی پر بنگلہ دیش پہنچے۔ (اے پی)

ملائیشیا نے روہنگیئن 300 مہاجرین کو لے کر آنے والی کشتیوں کو اپنی سمندری حدود سے نکال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائیشیا کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کی ' میری ٹائم انفورسمنٹ ایجنسی نے 300 کے غیر رجسٹرڈ روہنگیئن مہاجرین کو واپس بھیج دیا ہے اور اپنی سمندری حدود سے دور دھکیل دیا ہے۔ یہ مہاجرین میانمار سے ہجرت کر کے ملائیشیا میں پناہ لینے کے لیے آرہے تھے۔

بیان کے مطابق ملائیشین میری ٹائم انفورسمنٹ ایجنسی نے 'جمعہ کو رات گئے شمال میں لانگ کاوی رزالٹ کیے جنوب مغرب میں تقریبا 3.7 سمندری میل کے فاصلے پر دو کشتیوں کو دیکھا ۔ 'بلا شبہ ان کشتیوں پر روہنگیئن مسلمان سوار تھے جو میانمار میں فوج کے مظالم سے تنگ آکر محفوظ ہونے کی کوشش میں ملائیشیا آرہے تھے۔

تاہم میری ٹائم انفورسمنٹ ایجنسی نے انہیں اپنے علاقے میں پہنچنے پرضروری معاونت دی ، کھانے پینے کا کچھ سامان دیا اور واپس جانے کے لیے کہہ دیا ۔ یہ بات ملائیشین میری تائم انفورسمننٹ ایجنسی کے ڈی جی محمد رسلی عبداللہ کے جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔

ڈی جی نے مزید کہا ہے ' ہم تھائی حکام کے ساتھ بھی اس سلسلے میں رابطے میں ہیں۔ تاکہ مزید معلومات ملتی رہیں۔ ملائیشین پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 200 مشتبہ روہنگیا لوگوں کو حراست میں لیا گیا ۔ ان کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب یہ ملائیشیا کے لانگ کاوی رزالٹ پر کشتیاں سے پہنچی تھیں۔

یاد رہے روہنگیئن مسلمان کئی برسوں سے اپنے ہی ملک میں میانمار کی حکومت اور فوج کے ظلم و جبر کا شکارہیں اور مینامار کی بدھسٹ حکومت اور بدھسٹ فوج انہیں نسلی بنیادوں پر جبر تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بنگلہ دیش کی حسینہ واجد حکومت بھی ان روہنگیا مسلمانوں کو اپنے ملک کی حدود میں آنے دینے کو تیار نہیں تھی۔ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد بھی ان کے حق میں ابھی اکثر جگہوں سے بری خبریں ہی مل رہی ہیں۔

اس صورت حال میں ان ہجرت کرنے والے روہنگیئن مسلمانوں کو کئی کئی ماہ تک سمندروں میں ہی گذارنا پڑتے ہیں کہ کبھی ایک ملک اپنی سرزمین پر آنے سے منع کرتا ہے تو کبھی دوسرا ملک دور دھکیل دیتا ہے۔ اس سلسلے میں انڈو نیشیا ، ملائیشیا ، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کے درمیان دھکے کھاتے نظر آتے ہیں۔ کئی ملکوں میں انہیں جیلوں رہنا پڑتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں