امریکی صدر جوبائیڈن

بائیڈن اپنے اقتدار کے آخری ایام میں الوداعی خطاب سمیت دو بار تقاریر کر سکتے ہیں

این بی سی نیوز: بائیڈن کی ایک تقریر واشنگٹن کی خارجہ پالیسیوں پر مرکوز ہو گی۔ دوسری تقریر کے بعد سیاست کی دنیا نصف صدی گذارنے والے بائیڈن کو الوداع کہا جائے گا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ’این بی سی‘ نیوز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سبکدوش ہونے والے امریکی صدر جو بائیڈن وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے پہلے دو الوداعی تقریریں کریں گے۔

دونوں تقریروں کی تفصیل کیا ہے؟

امریکی نیوز نیٹ ورک نے اطلاع دی ہے کہ بائیڈن کی پہلی تقریر جو وہ 12 جنوری کو اٹلی سے واپسی کے بعد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں میں واشنگٹن کی خارجہ پالیسیوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس کے میں امریکی صدر اپنے اس یقین کی وجوہات بیان کریں گے کہ ان کی خارجہ پالیسیوں سےامریکہ مضبوط ہوا ہے۔ دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں کی حمایت میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔ساتھ ہی وہ یوکرین کی حمایت پر بھی بات کریں گے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اپنی اس تقریر میں بائیڈن بتائیں گے کہ ان کے دور امریکہ کی طاقت دنیا بھر میں اس کے اتحاد اور شراکت داری میں مزید مضبوط ہوئی ہے، جس میں نیٹو، ہند-بحرالکاہل کے خطے میں تعلقات اور یوکرین کی حمایت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

جہاں تک دوسری تقریر کا تعلق ہےتو اس میں بائیڈن 50 سالہ سیاست کی دنیا کو الوداع کہہ دیں گے۔ یہ ایک روایت ہے جس کی پیروی بہت سے سابق امریکی صدور نے کی ہے جسے "قوم سے الوداعی خطاب" کہا جاتا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اس دوران امریکی صدر سینیٹر کے طور پر اپنے برسوں کے بارے میں بات کریں گے۔ اس میں وہ آٹھ سال کا عرصہ بھی شامل ہے جس میں انہوں نے براک اوباما کے دور میں نائب صدر کے طور پر وائٹ ہاؤس میں گذارا۔اس کے بعد انہوں نے چار سال حکومت کی۔

ذرائع نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ بائیڈن امریکہ کے مستقبل کے لیے ایک وژن پیش کریں گے، جس کا مقصد اتحاد، لچک اور جمہوری اقدار پر نئی توجہ کی اہمیت پر زور دینا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں