دمشق کا منظر

خفیہ مکتوب اور یتیم خانے،شام میں سینکڑوں بچوں کا انجام نامعلوم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے ایک ماہ سے زائد عرصہ گذر جانے کے باوجود ان سینکڑوں بچوں کی قسمت غیر واضح ہے جنہیں ان کے والدین کو گرفتار کرنے کے بعد یتیم خانوں میں منتقل کیا گیا تھا۔

دریں اثنا شام کی سماجی امور اور محنت کی وزارت کے میڈیا آفس نے انکشاف کیا ہے کہ اسے اسد کے دور حکومت میں سکیورٹی برانچوں کی طرف سے بھیجے گئے کئی خفیہ خطوط ملے ہیں جن میں یتیموں کی پرورش سے متعلق انجمنوں میں متعدد بچوں کی منتقلی کی تفصیلات درج ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزارت کو دستاویزات جمع کرنے میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔

رانیہ العباسی، ان کے شوہر اور بچے

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزارت برائے سماجی بہبود اس وقت آرکائیونگ کے نظام کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے تاکہ گمشدہ یا خراب شدہ ڈیٹا کی بازیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کیسز کی تحقیقات کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

بچوں کے نام جمع کروائیں

اس کے علاوہ وزارتی دفتر نے گمشدہ بچوں کے خاندانوں سے کہا کہ وہ سماجی امور اور لیبر ڈائریکٹوریٹ کے متعلقہ ذیلی ڈائریکٹوریٹ میں جائیں، تاکہ بچوں کے نام اور ایسی کوئی بھی معلومات فراہم کی جائیں جو تلاش کے عمل کو آسان بنانے میں معاون ثابت ہوں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

قابل ذکر ہے کہ یہ فائل اور ساتھ ہی جیلوں میں جبری طور پر غائب کیے گئے افراد کی فائل شام میں نئی حکومت کو درپیش اہم رکاوٹوں میں سے ایک ہے، خاص طور پر چونکہ بہت سے ریکارڈ تباہ ہو چکے ہیں۔

شاید جو چیز اس فائل کی پیچیدگی کو بڑھاتی ہے وہ پچھلے عرصے کے دوران یتیم خانوں میں کچھ ملازمین کی طرف سے بہت سے بچوں کو ان میں منتقل کرنا ہے۔یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ یتیم خانوں سے کہا گیا تھاکہ وہ لائے گئے بچوں کے والدین کے نام تبدیل کریں یا انہیں میت کے طور پر رجسٹر کریں۔

لاپتہ بچوں کے معاملے کی سب سے مشہور مثال شام کی ڈینٹسٹ اور شطرنج کی کھلاڑی رانیہ العباسی کی کہانی ہے جسے 2013 ءمیں اپنے چھ بچوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ان کسی جگہ نہیں دیکھا گیا۔

اس کے اہل خانہ نے بہت کوشش کی کہ کم از کم یتیم خانوں میں اس کے بچوں کا کوئی سراغ ملے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، جب کہ اس کے خاندان کے ایک فرد نے تصدیق کی کہ ان بچوں کے نام ان دیکھ بھال کرنے والے اداروں کے سرکاری ریکارڈ میں تبدیل کر دیے گئے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں