شامی وزیرخارجہ اسعد الشیبانی
شامی وزیر خارجہ کا ترکیہ کا دورہ ، کن اہم امور پر بات چیت ہو گی ؟
شام میں محمد البشیر کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم ہونے کے بعد سے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی چار ممالک سعودی عرب، امارات، قطر اور اردن کے دورے کر چکے ہیں۔ آج بدھ کے روز وہ پانچویں دورے میں ترکیہ پہنچیں گے۔ یہ کسی بی شامی وزیر خارجہ کا 14 برس بعد انقرہ کا پہلا دورہ ہے۔
اس حوالے سے یہ سوال سامنے آ رہا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران میں عرب ممالک کے دوروں کے بعد اب وہ کون سے معاملات ہیں جن کو الشیبانی ترک حکام کے ساتھ زیر بحث لائیں گے ؟
شامی وزیر خارجہ آج بدھ کو ترکیہ کے دار الحکومت انقرہ میں اپنے ترک ہم منصب ہاقان فیدان سے ملاقات کریں گے۔
با خبر ترک ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ جانبین کے بیچ شام میں سیکورٹی کی صورت حال بالخصوص انقرہ کے حمایت یافتہ شامی گروپوں اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان جاری مسلح جھڑپیں زیر بحث آئیں گی۔
الشیبانی اور فیدان دمشق پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے علاوہ توانائی اور سیکورٹی تعاون کے حوالے سے بھی بات چیت کریں گے۔ واضح رہے کہ ترکیہ شام کی فوج کے عناصر کو تربیت کے سلسلے میں نئی انتظامیہ کی مدد کے لیے تیار ہے۔ دمشق اس وقت "تحریر الشام تنظیم" کے زیر قیادت عسکری گروپوں کو یکجا کر کے نئی فوج تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان گروپوں نے جارحیت کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا جس کے نتیجے میں دسمبر میں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔
ترک ذرائع کے مطابق الشیبانی کا انقرہ کا دورہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے دمشق کے دورے کی راہ ہموار کرے گا۔ توقع ہے کہ ایردوآن، احمد الشرع کی جانب سے انقرہ کے دورے سے پہلے دمشق کا دورہ کریں گے۔
ترکیہ کے امور کے محقق سرکیس قصارجیان کے مطابق الشیبانی کا انقرہ کا دورہ جانبین کی مرضی سے مؤخر کیا گیا تا کہ ان بعض ممالک کو اس کا احساس نہ ہو جو اندیشہ رکھتے ہیں کہ ترکیہ شامی دروازے کے راستے خطے میں اپنا رسوخ بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو میں قصارجیان نے کہا کہ الشیبانی نے پہلے عرب ممالک کے دوروں کا ارادہ کیا اور اب وہ ترکیہ کا دورہ کر رہے ہیں۔
توقع ہے کہ الشیبانی ترکیہ کے ساتھ وہاں موجود 30 لاکھ کے قریب شامی پناہ گزینوں کے معاملے پر بھی بات چیت کریں گے۔
دمشق میں اس وقت سفارتی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں جہاں اطالیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ دورہ کر چکے ہیں۔
شام میں 2011 میں مسلح تنازع شروع ہونے کے بعد سے ترکیہ اپوزیشن گروپوں کا مرکزی حامی شمار کیا جاتا ہے۔ نئے شامی حکام کے ساتھ اس کے مضبوط تعلقات ہیں۔ ترکیہ پہلا ملک تھا جس نے اپنا وزیر خارجہ دمشق بھیجا اور بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے چند روز بعد ہی دمشق میں اپنا سفارت خانہ کھول دیا۔