سعودی عرب میں چین کے سفیر ژانگ ہوا

سعودی عرب ہمارا سب سے بڑا اقتصادی شراکت دار ہے: چینی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیچیدہ اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عالمی جغرافیائی حالات کے باوجود 2025ء سعودی عرب اور چین کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے کا فیصلہ کن سال ہے۔ سعودی عرب میں چین کے سفیر ژانگ ہوا نے دوطرفہ تعلقات کے سلسلے کو اس طرح بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دوطرفہ تعاون مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مقبول وصیت ہے اور تاریخ میں ایک ناگزیر رجحان ہے۔

ریاض میں تعینات چینی سفیر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ریاض او بیجنگ کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 35ویں سالگرہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو اور سعودی ویژن 2030 کے درمیان صف بندی کو مزید گہرا کرنے کا ایک نیا موقع ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

سعودیہ اور چین کے تعلقات کا آغاز تقریباً 83 سال قبل ہوا اور 35 سال قبل 1990 میں دونوں ممالک کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے، سفیروں کے تبادلے اور سیاسی ملاقاتوں کے انعقاد کے بعد ان کی سرکاری حیثیت حاصل ہوئی۔

اس سال 2025 ءمیں سفارتی تعلقات کے قیام کی 35 ویں سالگرہ کے حوالے سے دلچسپی کو بڑھانے کے لیے چینی سفیر کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے پاس مستقبل کے شعبوں میں ترقی کے عناصر کو دریافت کرنے کا موقع ہے۔ دونوں ملک سبز معیشت، ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت جو دوطرفہ تعاون کے عملی نتائج کو زیادہ ٹھوس اور حقیقت پسندانہ بناتی ہے میں مل کر آگےبڑھ سکتے ہیں۔

چینی و سعودی قیادت

دونوں فریق اعلیٰ سطح کے دوروں کے تبادلے اور دوطرفہ تعلقات اور مشترکہ دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تزویراتی رابطے بڑھانے کے خواہشمند ہیں۔


دونوں ملکوں میں 100 بلین کا تجارتی تبادلہ

دریں اثنا چینی سفیر ژانگ ہوا نے کہا کہ چین اور سعودی عرب کے درمیان جامع تزویراتی تعلقات ترقی کے نئے دور کی طرف گامزن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ برسوں میں دو طرفہ تجارت کا حجم 100 ارب امریکی ڈالر سے زائد تک پہنچ گیا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video


سعودی عرب سب سے بڑا پارٹنر

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ چین سعودی عرب کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ یہی بات بیجنگ پر بھی لاگو ہوتی ہے، کیونکہ ریاض مشرق وسطیٰ میں اس کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تبادلے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دو طرفہ اقتصادی تعاون نئی توانائی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے علاوہ تیل، گیس، پیٹرو کیمیکل اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں پر مرکوز ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں