سابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن روم سیامپینو سے روانہ ہوتے ہوئے لہرا رہے ہیں - G.B. پاسٹین ایئرپورٹ، روم، اٹلی کے قریب، 10 جنوری 2025۔ REUTERS/Yara Nardi/Pool
انٹونی بلنکن وزارتِ خارجہ کے دوران کی اپنی یادداشتیں قلمبند کریں گے، پبلشر سے معاہدہ ہوگیا
امریکہ کے سابق وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اپنی وزارت خارجہ کے دوران کی یادداشتوں کو قلمبند کرنے کے لیے ایک معاہدہ کر لیا ہے۔ جس کی اشاعت کی تاریخ کا بعد میں تعین کیا جائے گا۔
انٹونی بلنکن کی اس متوقع کتاب کا نام ایک کینڈیٹ بک ہوگا جس میں وہ اپنے دور وزارت خارجہ کی یادداشتوں کے پیرائے میں ایک ایسی جھلک پیش کریں گے جو عام طور پر لوگوں کے سامنے نہیں تھی یا نہیں ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ انٹونی بلنکن نے منگل کے روز اپنے پبلشر کے ساتھ اس امر کا فیصلہ کیا ہے ۔
کتاب میں یوکرین پر روسی حملے، غزہ میں اسرائیلی جنگ اور دیگر بحرانوں کے علاوہ متنازعہ امور اور بڑے چیلنجوں کی ایک منفرد جھلک شامل کی جائے گی کہ وہ کس طرح امریکہ کے سابق صدر جوبائیڈن کے ساتھ ان معاملات سے نبرد آزما ہوتے رہے۔
بتایا گیا ہے کہ کتاب کی اشاعت کی تاریخ کے ساتھ ساتھ کتاب کا ٹائٹل بھی بعد میں طے کیا جائے گا۔
توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی انتظامیہ کی اندرونی سطح پر ہونے والی گفتگوؤں ، بحثوں ، فیصلوں اور اقدامات کے احاطے پر مبنی اس کتاب کے ذریعے یوکرین جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک کی اندرونی کہانی پہلے بار سامنے آئے گی کہ یوکرین روس جنگ کا یہ تنازعہ دنیا کو 50 برسوں سے زائد عرصے پر پھیلے ہوئے دورانیے میں پہلی بار ایٹمی تنازعے کے اس قدر قریب لے گیا تھا۔
اس کتاب کے ممکنہ پبلشر نے دعویٰ کیا ہے کہا انٹونی بلنکن کی یہ کتاب قارئین کو سیچویشن روم اور اوول آفس کے اندر تک لے جائے گی۔ تاکہ چین کے ساتھ تنازعات کو خطرناک حد تک بڑھنے سے روکنے کے لیے کی جانے والی بحثوں کو بھی سن سکیں۔
نیز یہ کتاب اسرائیل و حماس کی جنگ کے بارے میں بھی بہت سی پیچیدہ صورتوں کو پہلی مرتبہ سامنے لائے گی۔ جن سے اسرائیل کی جنگ کے دوران امریکی انتظامیہ نمٹتی رہی اور جنگ بندی کے مرحلے تک پہنچنے کے لیے امریکہ کو کس کس مرحلے سے گزرنا پڑا۔
62 سالہ انٹونی بلنکن، کلنٹن انتظامیہ کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔ جبکہ وہ 2020 کے صدارتی الیکشن میں جوبائیڈن کے ساتھ خارجہ پالیسی کے مشیر کے طور پر کام کر رہے تھے جنہیں بعد ازاں وزیر خارجہ بنایا گیا۔
صدر جوبائیڈن اور ان کی انتظامیہ کے علاوہ بلنکن کو بھی افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ اسی طرح فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی مدد کی پالسیسی کی وجہ سے بھی وہ تنقید کی زد پر رہے۔ وہ ان سب باتوں کو اپنی کتاب میں لا کر قارئین کو فیصلہ سازی کے عمل اور درپیش چیلنجوں سے براہ راست آمنا سامنا کرا سکتے ہیں۔
وزارت خارجہ کے آخری دن انہوں نے 'اے پی' کو ایک انٹرویو میں کہا وہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ جو ورثہ چھوڑ کر جا رہے ہیں اس کی بنیاد پر امریکہ اور اس کے مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی جا سکے گی۔ انہوں نے یوکرین جنگ کے سلسلے میں صدر جوبائیڈن اور ٹرمپ کی انتظامیہ کے درمیان باریک سے فرق کا بھی اعتراف کیا۔