اولاف شولتس

جرمن چانسلر کی یوکرین کے بارے میں ٹرمپ کی پالیسی پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن چانسلر اولاف شولز نے ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جرمن میڈیا نیٹ ورک ’ڈوئچےلینڈ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اولاف شولز نے ٹرمپ کے ان بیانات پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا، جن میں انہوں نے بڑے پیمانے پر امریکی امداد کے بدلے یوکرین میں قیمتی خام مال تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ"یوکرین حملے کی زد میں ہے اور ہم بغیر معاوضے کے اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ سب کا موقف ہونا چاہیے"۔

شولز نے اس سے قبل برسلز میں یورپی یونین کے غیر رسمی سربراہی اجلاس کے بعد کہا تھا کہ اس طرح کا مطالبہ "انتہائی خود غرضی پر مبنی ہو گا۔"

Your browser doesn’t support HTML5 video

ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ وہ یورپی یونین سے درآمدات پر محصولات عائد کرنا چاہتے ہیں جس پر شولز نے دوبارہ تنقید کرتے ہوئے کہاکہ"عالمی معیشت کو کم تجارتی رکاوٹوں کی ضرورت ہے، رکاوٹوں میں اضافے کی نہیں"۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو "یورپی کمیشن گھنٹوں‘‘ میں جواب دے سکتا ہے"۔

شولز نے کہا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے اپنی طاقت میں ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔ امریکہ جرمنی کا سب سے اہم اتحادی ہے۔

اس کے برعکس شولز نے کہا کہ وہ یورپی یونین کے سب سے بڑے ملک کے چانسلر کے طور پر اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ جب ڈنمارک جیسے چھوٹے ملک کو چیلنج کیا گیا تو گرین لینڈ پر قبضے کے لیے ٹرمپ کی دھمکیوں کےخلاف کھڑے ہو گے"۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں